نگارشات    ( صفحہ نمبر 468 )

صحیح تر کی طرف ۔۔وہاراامباکر

فلسفے میں پوسٹ ماڈرن ازم ایک پوزیشن ہے جس کے مطابق حقیقت اور سچ ایک کلچرل بیانیہ ہے۔ فلسفے کے اس خیال کو سائنس مخالف استعمال سائنس کو ڈِس کریڈٹ کرنے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں کہ ہر سائنسی←  مزید پڑھیے

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔۔ثمینہ انصاری

وبا نے میرے اندازے کے مطابق زہریلا اثر نہیں دکھایا مگر وطنِ عزیز میں معاشی حالات کا دھارا بدل ڈالا ہے۔ حکومتِ وقت نے وبا سے لڑنے کے لیے خاص انتظامات کیے ہوں گے مگر یہ خاص انتظامات حکومتی عہدیداران←  مزید پڑھیے

بھکاری(سو الفاظ کی کہانی)۔۔سیف الرحمٰن ادیب

دیگر بھکاریوں کے ساتھ میں بھی کشکول اٹھائے قطار میں کھڑا تھا۔ حاکم وقت آہستہ آہستہ قریب آ رہا تھا۔ میں نے اپنے کشکول میں دیکھا۔ چند پرانے سکے پڑے ہوئے تھے۔ مگر اب شاید یہ کڑکڑاتے نوٹوں میں بدلنے←  مزید پڑھیے

اٹھارویں ترمیم کے بارے ضروری معلومات ۔۔۔ پرویزبزدار

آج کل ذرائع ابلاغ پر ایک دفعہ پھر اٹھارہویں ترمیم کے چرچے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس ترمیم سے خوش نہیں ہیں جبکہ اپوزیشن کی خوشی اسی میں ہے۔آئیں دیکھیں اٹھارویں ترمیم کیا ہے اور←  مزید پڑھیے

انسانم آرزوست مصنف ڈاکٹر محمد امین/مرتب سخاوت حسین(مجلس8)

مغرب کا وقت تھا۔اندھیرا آہستہ آہستہ چھانے لگا۔مسافر نے شمع جلائی۔اور بڑبڑایا۔یہ وقت بھی عجیب شے ہے۔ابھی دن تھا۔ابھی رات ہوئی۔ہم جاگتے ہیں۔تو وقت کو دیکھتے ہیں۔سوتے ہیں تو وقت کا احساس نہیں رہتا۔ ابوالحسن نے سنا تو کہا۔مسافر، تو←  مزید پڑھیے

دی پارٹی از ناٹ اوور۔۔محمد اسلم خان کھچی

آج کل سیاسی حلقوں میں محترم سہیل وڑائچ صاحب کا خواب زیرگردش ہے۔ تمام حکومت مخالف پارٹیاں بشمول حکومتی”غدار ” آس لگائے بیٹھے ہیں کہ مائنس عمران فارمولہ پہ عمل درآمد ہونے کو ہے ۔ وڑائچ صاحب کے کالم پہ←  مزید پڑھیے

حال کی فنکاریوں کا ماضی کے فن پاروں پر اثر۔۔حافظ صفوان محمد

ایلیٹ غریب نے صرف یہ لکھا تھا کہ اچھا فن پارہ ماضی کے فن پاروں پر بھی اثر ڈالتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ماضی کے فن پارے ہمارے ادبی شعور کا حصہ بنتے ہیں۔ بے دال کے بودم←  مزید پڑھیے

بے سکونی کا علاج۔۔شاہد محمودایڈووکیٹ

بسا اوقات ہم اپنے حالات و واقعات یا کسی کے نامناسب رویہ کی وجہ سے اندر ہی اندر کڑھتے ہیں اور بے سکون رہتے ہیں۔ لوگوں کی باتیں جینا دوبھر کر دیتی ہیں۔ انسان کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ←  مزید پڑھیے

ایک کٹر مذہبی مشرقی باپ کی کہانی۔۔عبدالستار

ہمارے سماج میں رنگ برنگے پرندوں کو پنجروں میں ڈال کر ان کی رنگ برنگ خوبصورتیوں کو انجوائے کیا جاتا ہے کیونکہ ہمیں ہر قسم کی آزادی سے ڈر اور خوف محسوس ہوتا ہے ۔یہاں پر بچپن سے ہی انسانی←  مزید پڑھیے

انسانم آرزوست مصنف ڈاکٹر محمد امین/مرتب سخاوت حسین(مجلس7)

عصر کا وقت تھا ۔مسافر بولا۔ ابوالحسن میں چین گیا تھا۔وہاں کنفیوشس سے ملا۔جدا ہوتے، میں نے کنفیوشس سے کہا، کوئی نصیحت کریں۔جس پر میں عمل کروں۔کنفیوشس نے کہا۔حفظ مراتب کا خیال رکھو۔یہی فرائض کا تعین ہے۔دوسروں کے لئے وہی←  مزید پڑھیے

مثبت سوچ کی طاقت۔۔وہاراامباکر

“حقیقت اور اپنے یقین میں مفاہمت کروانی ہو تو مجھے تبدیلی اپنے یقین میں کرنی پڑتی ہے۔ اس کا برعکس طریقہ ٹھیک کام نہیں کرتا۔” ۔علی زیر یدکوسکی مثبت سوچ کی طاقت کی تحریک سے سیلف ہیلپ کے کئی گرو←  مزید پڑھیے

گول روٹی، مشترکہ خاندانی نظام، ہندو کلچر یا اسلام۔۔منصور ندیم

مہذب دنیا کی تمام تہذیبوں، ملکوں اور خطوں میں انسان خاندانی نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ خطہ ہندوستان بھی زمانۂ قدیم سے مقامی مذاہب اور اپنے مقامی مروجہ اخلاقی روایات  کے مطابق خاندانی نظام کی مخصوص تشکیل کر←  مزید پڑھیے

انسانم آرزوست مصنف ڈاکٹر محمد امین/مرتب سخاوت حسین(مجلس6)

دروازہ کھلا، مسافر مہینوں کے سفر کے بعد لوٹا۔ابوالحسن نے تکیے سے سر اٹھایا۔مسافر، بہت دیر کر دی۔ ہم بڑی دیر سے تمہارے منتظر ہیں۔کہو، کیا حال ہے۔ ابوالحسن، لفظوں کے معنی بدل چکے ہیں۔ڈکشنریوں میں کچھ لکھا ہے۔لوگ کچھ←  مزید پڑھیے

مفت توانائی۔۔وہارا امباکر

مفت توانائی ایک دعویٰ ہے کہ توانائی کی کنزریویشن کے قوانین توڑے جا سکتے ہیں اور کوئی ایسا طریقہ نکالا جا سکتا ہے جس سے توانائی مفت ملتی رہے۔ اس دعوے کے ساتھ ایک بنیادی مسئلہ ہے اور وہ یہ←  مزید پڑھیے

ہمارے ہیروز کہاں چلے گئے؟۔۔ڈاکٹر عمران آفتاب

میرا بیٹا آیان کلاس تھری میں پڑھتا ہے۔ آرٹ اور میوزک کا شوق اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملا ہے۔ آواز بھی سریلی پائی ہے اور رنگوں میں زندگی بھر دینے کی مہارت بھی رکھتا ہے۔ مجھے اس کے←  مزید پڑھیے

چاند پانے کی تمنا۔۔داؤد ظفر ندیم

وبا کے عفریت نے میری حرکت و نقل کو روک دیا تھا۔ سانس کے مختلف عارضوں میں متبلا ہونے کی وجہ سے میں اس وبا کا ایک آسان شکار ہو سکتا تھا، اس وبا کے سیزن میں میرے دو عزیز←  مزید پڑھیے

کراچی:بارانِ رحمت سے زحمت تک۔۔عاصمہ حسن

جیسے جیسے گرمی کا موسم آتا ہےلوگ بارشوں کے لئے دعائیں مانگنا شروع کر دیتے ہیں، یا اللہ میاں بارش بھیجیں تاکہ موسم کچھ بہتر ہو، ـ بارشوں کا موسم سب کو اچھا لگتا ہے ـ جب موسم اچھا ہوتا←  مزید پڑھیے

قصہ ملوک سپل کی بے گُناہی کا۔۔عزیز خان ایڈووکیٹ

یہ 1997کی بات ہے میں بطور ایس ایچ او تھا کوٹسمابہ تعینات تھا، میں نے اپنی رہائش رحیم یار خان میں رکھی ہوئی تھی، کوٹسمابہ رحیم یار خان سے بائیس کلومیٹر دور تھا، غلام قاسم مرحوم بطور گن مین میرے←  مزید پڑھیے

مندر یا مسجد: بات ہے اصول کی۔۔حسان عالمگیر عباسی

میں سمجھتا ہوں دین جذبات کی قدر کرتے ہوئے  ‘اصول’ کو فوقیت  دیتا ہے۔ معاشرتی برائیوں اور مذہبی روایت پرستی نے ہمیں اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ ہمیں دین ،دماغ اور لاجکس کی ضرورت محسوس ہو۔ دین لاجیکل ہے←  مزید پڑھیے

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔۔نازیہ علی

کورونا وائرس کی عالمی وبا نے جس طرح پوری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچایا بالکل اسی طرح تعلیم کے نظام کو بے حد متاثر کیا ہے، کہیں آن لائن کلاسز کے نام پر خانہ پوری کی جانے لگی تو←  مزید پڑھیے