ڈاکٹر نے سوچا بوڑھا مر رہا ہے۔ ڈاکٹر کے ذہن میں بوڑھا کبھی بوڑھا نہیں تھا۔ ڈاکٹر اور بوڑھے کا بچپن سے تعلق تھا۔ بچپن، جب ڈاکٹر بچہ تھا اور بوڑھا بوڑھا نہ تھا۔ آج جب بوڑھا مر رہا تھا← مزید پڑھیے
دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ ثقافت پذیری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کی طرح سماجی اقدار کی کانٹ چھانٹ بھی ہو رہی ہے ایسے میں مخصوص علاقائی روایات بدستور دم توڑتی جائیں گی۔ بالخصوص ایسے← مزید پڑھیے
چھوٹا بچہ ہر لمحہ اپنے گرد و پیش سے کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے۔ میرے بچے جب چھوٹے تھے تو کسی ایک کی تعریف پر جھٹ سے دوسرا بول پڑتا، ہاں ہاں میں ہی برا ہوں۔ میں انہیں سمجھاتی← مزید پڑھیے
پاکستان آزاد ہونے کے بعد سے آج تک مختلف مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ شروع شروع میں معیشت سب سے بڑا مسئلہ تھی کہ مُلک کو کیسے چلایا جائے لیکن اس کے بعد سیاسی مسائل آگئے کہ مُلک کو← مزید پڑھیے
عرب کا معروف خطیب ’’ قس بن ساعدہ الایادی‘‘ ایک خاکستری اونٹ پر سوار جیسے ہی عطاظ کے میلے میں داخل ہوئے ایک غلغلہ مچ گیا، تمام قبائل ہی اسے سننے کے لئے دور دور سے آتے تھے ، ویسے← مزید پڑھیے
اب گھر میں مشکل یہ ھے کہ جب سے خاتون خانہ نے لکھنا شروع کیا ھے،
وہ سمجھنے لگی ہے کہ مجھے لکھنا نہیں آتا اور یار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بیگم کی تحریریں میں لکھتاہوں ۔بیگم کا خیال ہے کہ چند شہر گھوم گھام کر کچھ شرپسند اکٹھے کئے ہیں ۔جو میری ھر پوسٹ پہ واہ واہ کرتے ہیں اور میں ان کی ۔ویسے بھی سچی بات تو یہ ھے کہ میں بھی کمنٹس اور لائکس کیلئے ہی تو لکھتا ہوں ۔فیس بک کے اسٹیج پہ پرفارم کرنے پہ صرف داد ہی تو ملتی ھے۔← مزید پڑھیے
قرآن مجید میں بڑی صراحت سے اللہ رب العزت نے اپنے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان ایک مکالمہ نقل کیا ہے جو کہ روزِ جزا کے دن پیش آئے گا۔ اس مکالمے میں اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام← مزید پڑھیے
بائیس مئی، جمعہ کی سہ پہر فلائیٹ پی۔کے 8303 نے لاہور سے کراچی کے لئے اڑان بھری۔ اور ڈیڑھ گھنٹے بعد کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی پہلی کوشش کی۔ لیکن لینڈنگ گیئر کی خرابی اور ٹائر نہ کھل سکنے پر← مزید پڑھیے
قرآن کریم وہ عظیم و بر تر و مبسوط کتاب ہے جو علم کا خزانہ اور منبع ہے اور انسان کی راہنماِئی کرتی ہےاور یہ ہر قسم کے علم کی اساس ہے۔اس مضمون میں اسی نقطے کو ثابت کرنے کی← مزید پڑھیے
بیسویں صدی کا ابتدائی دور وہ وقت تھا جب دنیا سے بادشاہتوں کا سورج غروب ہو رہا تھا۔ 1905 میں روسی انقلاب نے زار نکولس دوئم کو ہلا دیا تھا۔ یہ انقلاب دھیرے تبدیلی کے حق والے لبرلز کے لئے← مزید پڑھیے
شاید آپ کو پتہ نہ ہو کہ دنیا میں سعودی عرب پچھلے دو برسوں پہلے تک وہ واحد ملک تھا، جہاں ایک بھی سینما گھر نہیں تھا، اس کے علاوہ سعودی عرب کی فلم انڈسٹری بھی نہ تھی، حتیٰ کہ← مزید پڑھیے
اگر تم ملکیت کو حد سے زیادہ اہمیت دو گے تو لوگ چوریاں کریں گے خون خرابہ کبھی ختم نہیں ہو گا, مثال کے طور پر آپ کے معاشرے میں سونا ایک عام دھات ہے اس کے ساتھ آپ نے← مزید پڑھیے
مسئلہ کرنل کی بیوی کا نہیں،بلکہ یہاں کی اکثریت اپنی بنیادو ں سے سِرک گئی ہے۔یہ ایک نفسیاتی مسٔلہ ہے،جس میں ہم پاکستانی،قبل از آزادی , نوآ بادیاتی دور سے بھی پہلے کے گرفتار چلے آرہے ہیں۔کسی بھی محکمے ،← مزید پڑھیے
جب کھانےکے بعد مومنین ایک ایک کرکے رخصت ہونے لگےتودروازے کا ٹوٹا پٹ میرے سر پہ سوار ہوتاچلاگیا،سمجھ نہیں آرہاتھاکہ کیسے اس منہ چڑاتےسوراخ سے دودوہاتھ کیاجائے؟ آخر کووہی مٹکہ نما ڈھول ہی میرے کام آئے اور اس میں سے← مزید پڑھیے
عید کی شام میں نے اپنے پیاروں امی جان، دادی جان اور شہید لالا جان کی ایصال ثواب کے لیے قبرستان کا رخ کیا اور کچھ دیر اپنے پیاروں کے مقبروں کا دیدار کرنے کے بعد واپس گھر لوٹ رہاتھا← مزید پڑھیے
سلطان عبدالحمید دوئم آخری بااختیار سلطان تھے۔ تاریخ نے انہیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا۔ جس طرح سلطان سلیمان کو مغربی مورخین نے بہترین سلطان کہا ہے اور magnificent کہہ کر یاد کیا ہے، وہاں عبدالحمید کا معاملہ برعکس← مزید پڑھیے
زندگی گلے میں پڑا ڈھول نہیں جسے بے دلی سے پیٹنا ہے بلکہ خواب دیکھئے، تعاقب کیجئے، زندگی نہ صرف آپکی محنت کا قرض لوٹائے گی بلکہ آپکے لئے کامیابی کی سیج سجائے گی ابھی تریپن یا چوون سال ہی← مزید پڑھیے
پہلے ایک کہانی سنتے ہیں ـ ہمارے خطے کی عظیم رزمیہ داستان “مہا بھارت” کا بظاہر ایک غیر اہم حصہ ـ مہا بھارت کے مطابق اچاریہ درون فنِ تیر اندازی کے ماہر ترین استاد تھے ـ ارجن ان کا ہونہار← مزید پڑھیے
سلطان عبدالمجید کا تعلق نقشبندی سلسلے کی حالیدی شاخ سے تھا۔ جو اپنا تعلق شیخ حالد بغدادی کے دمشق کے مزار سے جوڑتے تھے۔ اعلیٰ عہدیداران کا انتخاب بھی اسی سلسلے سے کیا گیا تھا۔ ان کا سلطان بننے کے← مزید پڑھیے
ستمبر 1997ء میں میری تعیناتی تھانہ کوٹ سمابہ تھی۔ ان دنوں لشکر جھنگوی، شیعہ فرقہ کے افراد کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ان کی دسترس سے کوئی بھی محفوظ نہ تھا۔ اب انھوں نے پولیس ملازمین کو بھی نشانہ بنانا← مزید پڑھیے