نگارشات    ( صفحہ نمبر 496 )

زندگی کی قوالی ۔ زندگی (25)۔۔وہاراامباکر

کوانٹم مکینکس کو بیان کرنے کے لئے کئی بار “عجیب” کا لفظ استعمال کیا جاتاہے اور ہاں، اس کو عجیب کہنا آسان ہے۔ ایسی تھیوری جو بتائے کہ اشیاء رکاوٹوں کے بیچ میں سے گزر جاتی ہیں، بیک وقت دو←  مزید پڑھیے

ٹرولنگ کی جدلیات۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

ٹرولنگ ابتداء میں دوسروں کو محض شہہ دینے، دہکانے اور غصہ دلانے والی ہی ایک شریر بچگانہ حرکت سمجھی جاتی تھی لیکن نیوز اور سوشل میڈیا کے ذریعہ جدید استعمال کے ساتھ اس کی نوعیت، استعمال اور اثرات میں تبدیلی←  مزید پڑھیے

سندھ اور برصغیر۔۔شہباز الرحمٰن خان

ایوب علی شعبہ اردو کراچی پریمئر کالج کے پروفیسر رہے ،کئی  کتابیں بھی لکھیں، جن میں سے ایک کتاب خاصی شہرت یافتہ ہے “اردو زبان شعرائے کرام” ادب سے لگاؤ کے باعث اس کتاب کی اشاعت پر نظر ڈالنے کا←  مزید پڑھیے

رفت گزشت، جب ہمیں فرقوں میں بانٹ دیا گیا ۔۔عبدالباسط ذوالفقار

دو چار روز قبل ہمارے محلے کے آخری بزرگ بھی آخرت  کو سدھار گئے۔ بزرگ رحمت ہوتے ہیں یہ بات ہم نے سن رکھی ہے لیکن عملاً دیکھ لیں تو کیا ہی بات ہوگی۔ مجھے یاد ہے یہ سب بزرگ←  مزید پڑھیے

کیا ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کا اظہار کرنا ایک کفریہ رویہ ہے؟۔۔عبدالستار

ہم بنیادی طور پر ایک ایسے بند سماج کا حصہ ہیں جہاں پر خود سے سوچنا اور سوال اٹھانے کے عمل کو “کفریہ باتوں “میں شمار کیا جاتا ہے ، جوابات کی بجائے سوالوں کو کھوجنے اور پوچھنے والے لوگوں←  مزید پڑھیے

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(پچاسویں قسط،حصّہ پنجم)۔۔گوتم حیات

رات کے دو بج رہے ہیں۔ ابھی سحری کا آغاز نہیں ہوا، چاروں طرف خاموشی ہے۔ آج میں پورے بیس سال پیچھے جانا چاہتا ہوں۔ پاکستان کی تاریخ کا وہ المناک دور جب پورا ملک ایک بار پھر سے “جابروں”←  مزید پڑھیے

وزیرستان کی مقتول بچیاں اور ہمارے قوم پرست۔۔عارف خٹک

وزیرستان میں غیرت کے نام پر قتل کی جانیوالی بچیوں کی وجہ سے ہم سب غمگین ہیں۔۔ مگر جس طرح سے پشتون تحفظ موومنٹ کی  گلالئی اسماعیل امریکہ میں بیٹھ کر چیخیں مار رہی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔←  مزید پڑھیے

جب کووڈ 19 کی تاریخ لکھی جائے گی۔۔ذیشان نور خلجی

یہ چین ہے۔ 2019ء کے اواخر میں جیسے ہی یہاں کرونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تو لاک ڈاؤن لگا دیا گیا اور سخت حفاظتی تدابیر اختیار کی گئیں۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ انہوں نے بہت جلد ہی اس وباء←  مزید پڑھیے

زیرو پوائنٹ پہ کھڑی ایک ذہنی مریض عورت۔۔عطیہ قیوم

میں فیمینسٹ تو نہیں ہوں لیکن اس تحریر کو پڑھنے کے بعد اگر آپ مجھے فیمینسٹ کہیں گے تو مجھے برا بھی نہیں لگے گا۔ عورت کا رتبہ اتنا بلند ہے کہ اگر وہ بیٹی ہے تو رحمت ہے، بیوی←  مزید پڑھیے

حمیرا جمیل کی افسانہ نگاری۔۔پروفیسر مہر سخاوت حسین

حمیرا جمیل صاحبہ سوشل میڈیا کی دنیا میں کسی تعارف کی  محتاج نہیں۔علمی اور ادبی حلقوں میں ان کی ایک خاص پہچان ہے ۔ یوں تو ادب کے میدان میں حمیرا جمیل صاحبہ کامیابیاں سمیٹ رہی ہیں مگر بالخصوص اقبالیات←  مزید پڑھیے

کرپشن کی زنجیر اور پولیس۔۔عزیز اللہ خان ایڈوکیٹ

کوٹ سبزل تھانہ کی تعیناتی کافی مشکل تھی، روزانہ شام چار بجے سے رات دس بجے تک سنگین واردات ہونے کا خدشہ رہتا تھا اور تھانہ کے تمام ملازمین تیار ہوتے تھے کیونکہ سندھ کے بالکل قریب ہونے کی وجہ←  مزید پڑھیے

ذہن ۔ زندگی (24)۔۔وہاراامباکر

شعور کیا ہے؟ فلسفی، آرٹسٹ، نیوروبائیولوجسٹ، سب کو یہ سوال پریشان کرتا رہا ہے۔ جب سے ہم باشعور ہوئے ہیں، اس سوال کے جواب کی تلاش میں ہیں۔ کوانٹم مکینکس مقناطیسی قطب نما، فوٹوسنتھیسز، سونگھنے، انزائم ایکشن جیسی چیزوں کے←  مزید پڑھیے

نیو خان بمقابلہ منٹھار بس سروس۔۔محمد اسلم خان کھچی

کوئی آج سے دس برس پہلے تک لاہور سے صادق آباد تک نیو خان ٹرانسپورٹ کمپنی کے نام سے ایک بس سروس مسافروں کو اپنی خدمات مہیا کرتی تھی۔ نیو خان شاید پورے پاکستان میں تھی لیکن میں صرف اپنے←  مزید پڑھیے

چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب گلزار احمد کے نام ایک کھلا خط۔۔سید عارف مصطفیٰ

محترم المقام جناب چیف جسٹس صاحب سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام علیکم! آپ کو میرا یہ کھلا خط فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے تحت آئندہ نوممبر میں منعقد ہونے والے مقابلے کے امتحان کے بارے میں ہے۔یہ خبر جو 6←  مزید پڑھیے

روٹھے رب کو راضی کرلو۔۔ انعام مورگانائیٹ

اگر کسی کو کبھی کویت میں چند سال گزارنے کا تجربہ رہا ہو اور اس نے کویت میں رمضان المبارک گزارا ہو تو  ایسے شخص کو  یہ سمجھانا قطعی مشکل کام نہیں ہے کہ جو مزہ اور لطف کویت میں←  مزید پڑھیے

ارطغرل غازی کون تھا؟۔۔درخشاں صالح

سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی پر ترکی کا مقبول ترین تاریخی ڈرامہ ’’ارطغرل غازی‘‘  نشر کیا  جا رہا ہے، اُسے پاکستانی عوام کی طرف سے بے پناہ سراہا بھی  جا رہا ہے۔ میں نے یہ ڈرامہ نہیں دیکھا لیکن←  مزید پڑھیے

میرا بے نیاز خدا ۔۔۔ معاذ بن محمود

میرے نزدیک خدا کی صفتِ بے نیازی وہ صفت ہے جسے اگر ٹھیک سے نہ سمجھا جائے تو انسان کے رب باری تعالی سے باغی ہونے کے امکان بہت بڑھ جایا کرتے ہیں۔ یہ صفت خدا کی Integrity پر دلیل ہے۔ وہ کسی سے بلیک میل نہیں ہوتا۔ ہاں وہ ہر شے پر قادر ہے مگر اپنی مرضی سے۔ آپ اسے دہائی دے سکتے ہیں مگر وہ آپ کی سنے نہ سنے یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔ آپ اسے اس کے پیارے نبی کا واسطہ دے سکتے ہیں مگر وہ یہ واسطہ مانے نہ مانے اس کا فیصلہ۔ کیونکہ وہ بے نیاز ہے۔←  مزید پڑھیے

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(پچاسویں قسط،حصّہ چہارم)۔۔گوتم حیات

اتوار کا دن تھا ،ہم سب گھر پر ہی تھے، شام کی چائے کے دوران میں نے دیکھا صائمہ کسی سے فون پر الجھ رہی تھی، مجھے اس بات کا تو علم نہیں تھا کہ اس نے کس کو کال←  مزید پڑھیے

کووڈ 19: ایمرجنسی میں فرائض کی شاندار ادائیگی پرشاباش پولیس۔۔عمران علی

آفات اور انسان کا ایک دوسرے سے تعلق اتنا ہی قدیم ہے ، جتنی قدیم انسانی تہذیب اور معاشرت، انسان نے اپنی ضروریات کے پیشِ نظر نظام قدرت سے چھیڑ چھاڑ کی، اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دریاؤں←  مزید پڑھیے

شہاب الدین شاہجہاں۔۔مہر ساجد شاد

شہاب الدین شاہجہاں (شہزادہ خرم) اپنے والد نورالدین جہانگیر کی وفات کے بعد 6 فروری 1629ء کو تخت نشین ہوا۔ شاہجہاں لاہور میں راجپوت مہارانی مانمتی المعروف بلقیس مکانی کے بطن سے پیدا ہوا، اسکی بہترین تعلیم و تربیت کی←  مزید پڑھیے