کچھ دنوں سے میری آنکھوں میں درد رہنے لگا ہے۔ نیند کہیں روپوش ہو گئی ہے اور بھوک جیسے ختم سی ہو گئی ہے۔ بمشکل ایک وقت کا کھانا کھا پاتا ہوں۔ سارا دن اور ساری رات بستر پر آرام← مزید پڑھیے
پیارے پڑھنے والو! دنیا بھر میں کرونا کی تباہ کاریاں جاری ہیں، پاکستان بھی اس آزمائش سے دوچار ہے۔ایسے میں تواتر سے کچھ لوگ طعن و تشنیع،تنقید اور دشنام کا بازار گرم کیے ہیں،کچھ حکومت کے لتے لیتے دکھائی دیتے← مزید پڑھیے
کرونا وائرس کی دریافت گزشتہ سال کے اواخر میں ہمارے پڑوسی ملک چین کے شہر ووہان میں ہوئی – ابتداء میں لوگوں نے اس کو صرف وہیں کا کوئی مقامی مسئلہ سمجھا – بلکہ ہمارے ہاں اس حوالے سے چینیوں← مزید پڑھیے
عداوتیں تھیں،تغافل تھا،رنجشیں تھی مگر بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بےوفائی نہ تھی محبت جب ہاتھ سے ریت کی مانند پھسل جائے تب رہ جانے والی چیزوں میں پچھتاوا اور الزام ہوتا ہے جو برابر اک دوسرے پہ تھوپا← مزید پڑھیے
میں نے آج کرونا کے بارے میں کچھ بھی نہیں لکھنا کیونکہ اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس ایکسپرٹ ہوئی پڑی ہے ۔ بچے بچے کو قرنطینہ کا پتہ ہے کوئی عمل کرے نہ کرے ۔ ویسے بھی یہ تو← مزید پڑھیے
وائرس سے نجات پا لینا آسان نہیں۔ ویکسین، اینٹی وائرل ادویات، پبلک صحت کی حکمتِ عملیاں ۔۔۔ لیکن یہ پھر بھی غچا دے جاتے ہیں۔ ویکسین کے پروگرام کئی وائرس کئی ممالک سے ختم کر چکے ہیں۔ لیکن دوسرے ممالک← مزید پڑھیے
پاکستان میں شعبہ صفائی سے وابستہ اٹھانوے فیصد افراد کا تعلق پاکستان کے 33لاکھ مسیحیوں اور پانچ لاکھ شیڈول کاسٹ ہندوؤں میں سے ہے۔گوکہ ان میں پہلے روسں ، امریکہ اور ہمارے دور اندیشوں کی کوشش سے ہزاروں افغانی بھی← مزید پڑھیے
جس چیز کی رسد کم ہو اس کی بلاوجہ طلب بڑھ جاتی ہے میری چاول خور بیگم کے دل میں اچانک آٹے سے محبت جاگ اٹھی ۔ میں نے سمجھایا بھی کہ آٹا گوندھے بغیر بھی آپ ہل سکتی ہو← مزید پڑھیے
بگ بینگ کے دھماکے کو ہوئے چار ارب سال ہو چکے تھے۔ یہ زمین کھنکھناتے گارے کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں تھی۔ کچھ بھی نہیں۔۔ ہر طرف ایک ہُوکا عالم تھا۔ چہار سو خاموشی کا راج تھا۔آوازیں تھیں مگر← مزید پڑھیے
ضمیر اختر نقوی سن 1944 کو یو پی کے مشہور شہر لکھنؤ میں ایک شیعہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ گریجویشن تک کی تعلیم وہیں حاصل کی اور 1967 میں کراچی آگئے ۔ یہ ہندوستان سے آئے ہوئے تعلیم← مزید پڑھیے
ثابت ہوا کہ قدرت کا کوئی مقابلہ نہیں۔تخلیق کرنے والا ہمیشہ اپنی مخلوق پر قادر ہوتا ہے۔قدرت سے چھیڑ چھاڑ مہنگی بھی پڑ سکتی ہے۔ کورونا نے جدید معاشرے کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اس نے انسانی نفسیات کو← مزید پڑھیے
دوستو کرونا کی شکل میں آنے والی اس آفت میں ہم سب فکرمند ہیں، اک دوجے کی ڈھارس بندھاتے ہیں مشورے دیتے ہیں ڈراتے ہیں احتیاطی تدابیر بتاتے ہیں۔ بلاشبہ یہ اہم کام ہے۔ لیکن اب جبکہ جزوی سہی لاک← مزید پڑھیے
کرونا کے سبب لاک ڈاؤن میں گزارے ہوئے سات دن اور سات راتیں یوں گزر گئیں، احساس ہی نہیں ہوا۔۔۔ ہر روز لکھنے کے لیے غوروفکر کرنا اور پھر ماضی کی حَسیِن وادیوں میں جا کر لفظوں کو کشید کرنا← مزید پڑھیے
کراچی میں ایک علاقہ ہے جہانگیر روڈ، وہاں ایک بلوچ محلہ ہے، کراچی کے قدیم بلوچ اسے “کیاماسری” کے نام سے یاد کرتے ہیں ـ کہا جاتا ہے پہلے یہ علاقہ وہاں آباد تھا جہاں آج بانیِ پاکستان کا مزار← مزید پڑھیے
ایک عام سی کہانی ہے کہ ایک سانپ اپنے زہر کی تعریف کررہاتھا کہ میراڈسا پانی نہیں مانگتا ۔پاس بیٹھا مینڈک اس کا مذاق اڑا رہاتھا کہ لوگ تیرے زہر سے نہیں بلکہ تیرے خوف سے مرتے ہیں۔ دونوں کا مقابلہ کرنے← مزید پڑھیے
برانکس کے چڑیاگھر کی چیف پیتھولوجسٹ کو 1999 میں پریشانی لاحق تھی۔ وہ دیکھ رہی تھیں کہ چڑیا گھر کے قریب کوے مردہ پائے جا رہے تھے۔ لگتا تھا کہ پرندوں کا کوئی نیا وائرس شہر میں پھیل رہا تھا۔← مزید پڑھیے
اسلام عفت و پاکبازی، طہارت اور صفائی کا دین ہے۔ وہ ایسا معاشرہ تشکیل دینے کا خواہش مند ہے جس میں عفت و پاکبازی کی حکمرانی اور طہارت و نظافت کی فضا ہو۔ اسلام پاکیزہ معاشرہ تشکیل دے کر اخلاق← مزید پڑھیے
دنیا کی تاریخ کی بدترین وباؤں میں سے ایک وبا اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ 140 سے زیادہ ممالک کرونا نامی وائرس سے متاثر ہیں۔۔ چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا یہ وائرس← مزید پڑھیے
جس شہر میں یہ کورونا وائرس کی وبا پھیل چکی ہے، وہاں سفر کرنا یا ٹھہرنا خودکشی کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت یہ وائرس کراچی اور ایران کے شہروں میں پھیل چکا ہے، اور گوادر شہر کی زندگی کا← مزید پڑھیے
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلامی ریاست میں پنج وقتہ اذان، مساجد کا وجود اور ان میں باجماعت نماز اسلامی شعائر میں سے ہے۔ ان کی تحقیر یا بے ادبی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ دنیا بھر میں← مزید پڑھیے