اس تصویر کو دیکھیے۔۔ ڈھلتا سورج ، شام کے گہرے سائے سرد ہواؤں کا زور، گلابی فراک پہنے گڑیا بیکری سے من پسند چاکلیٹس کھلونے لئے کار میں رکھ کر اب اپنے عزیز کی انگلی تھامے مٹکتی ہوئی ریسٹورنٹ کی← مزید پڑھیے
صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے “فواد چودھری ہر مہینے ہیرو گیری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔” حالانکہ اس کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہوتا۔ آپ کسی وقت بھی ہیرو کا رول ادا کر سکتے ہیں۔← مزید پڑھیے
میں ریحانہ ہوں,منٹوکی تصوراتی سکینہ یا سوگندھی نہیں مگر آپ مجھے بخوشی سکینہ سوگندھی سمجھ سکتے تھے اگر میں خود کو اس معاشرے کے دھارے پہ چھوڑ دیتی۔۔ میں نے منٹو کو نہیں پڑھا، راحت کی پوسٹ کی چند لائنیں← مزید پڑھیے
تحریک شناخت کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے لکھی گئی کتب میں سے ایک کتاب” کئی خط اک متن” میں سے بائیسواں خط پی ٹی آئی کی اعلیٰ ترین قیادت کے نام۔ عام شریف پاکستانیوں کے لئے یہ← مزید پڑھیے
ہندوستان میں داستان گوئی کی روایت بہت قدیم ہے۔ نویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک پھیلی یہ روایت ہر خاص و عام کے لیے تفریح کا مقبول ذریعہ رہی ہے۔ بیسویں صدی میں سماجی ڈھانچے کی تبدیلی اور← مزید پڑھیے
برطانوی حکومت چونکہ کسی طورپر بھی سکاٹ لینڈ کی یو کے سے علیحدگی نہیں چاہتی، لہٰذا اس نے اسکاٹ لینڈ کی حکومت اور اسکاٹش نیشنل پارٹی کی سربراہ نکولاسٹرجن کی طرف سے آزادی کے دوسرے ریفرنڈم کے مطالبے کو ماننے← مزید پڑھیے
بیسواں حصّہ چُھٹکی کو ڈُھونڈنے میں پنجاب کے اُس گاؤں جارہا تھا،جہاں چُھٹکی نے جنم لیا تھا۔ آج اٹھارہ سال بعد چُھٹکی سے ملنا تھا،اُس کو دیکھنا تھا۔اٹھارہ سالوں کا ایک ایک لمحہ جو ہم دونوں نے ایک دوسرے کے← مزید پڑھیے
کسی گاؤں میں کنواں تھا جہاں سے لوگ پانی لیتے اور گھریلوں ضروریات پوری کرتے تھے۔ ایک رات اندھیرے میں ایک بیمار کتا کنویں میں گر کے مر گیا۔ اگلے دن پورا گاؤں وہاں اکٹھا ہو گیا کہ اوہ ہو← مزید پڑھیے
میرے گاؤں کا نام پنڈی سرہال ہے۔ پاکستان کو آزاد ہوئے 72 برس مکمل ہو چکے ہیں، لیکن آج بھی دنیا ہمیں تیسری دنیا کے ایک ملک کی حیثیت سے جانتی ہے۔ یہی حال میرے گاؤں کا بھی ہے۔ میرے← مزید پڑھیے
دھماکہ کسی بھی طرح کا ہو، اچھی چیز نہیں سمجھی جاتی لیکن کچن میں خشک مکئی کے دانوں میں ہوتے چھوٹے چھوٹے دھماکوں کی بات فرق ہے۔ سخت خول والا ہر چھوٹا سے دانہ بہت سی کاربوہائیڈریٹ، پروٹین، آئرن اور← مزید پڑھیے
پیرس- فرانس 1 جنوری کو صبح سات بجے آنکھ کھلی تو ہوٹل کے اطراف کا علاقہ خالی پایا کہ اہل پیرس رات کو ہلا گلا کر کے ابھی یقینا ابھی سو رہے تھے۔ اہل فرانس نیو ائیر صدیوں سے بھرپور← مزید پڑھیے
منٹو پر شاید ہی اتنا ظلم اسکی زندگی میں ہوا ہو جتنا آج اسکے افکار کے ساتھ ہو رہا ہے۔ میم سے منٹو سمجھنے کے بجائے پورا زور میم سے مرد پر لگ رہا ہے۔ مرد یہ ہے مرد وہ← مزید پڑھیے
پاکستان کے سینئر کالم نویس ادیب ریٹائرڈ بیوروکریٹ جناب اظہار الحق صاحب نفاذ اردو سے متعلق اپنے کالم ” تلخ نوائی” میں تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اردو کا عمل بتدریج کیا جائے۔مقابلے کے امتحان میں انگریزی کی← مزید پڑھیے
اے رحیم مولا ! تارکول کی سڑکوں پر ننگے پاؤں چلتے ہوئے وحشی اپنی اکڑی ہوئی گردنوں کو لیے مجھ پر جھپٹنے کو تیار کھڑے ہیں اور میں ان کے بیچ زندگی کی تہمت اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھائے تیرے← مزید پڑھیے
وہ ایک غیر مسلم ملک کے کسی ہسپتال میں زیرِ علاج تھا۔ کچھ روز بعد تیمارداری کرنے والی خاتون نے اسے شادی کی پیشکش کر دی لیکن اس نے جواب دیا کہ وہ تو مسلم ہے۔ خاتون نے کہا کہ← مزید پڑھیے
گزشتہ سے پیوستہ: انہوں نے بادشاہوں اور حکومتوں کو اپنے دام میں بری طرح پھنسا لیا تھا،یہی نہیں اخلاقی طور پر پستیوں کی جس اتھاہ گہرائیوں اور دلدل میں یہ دھنسے ہوئے تھے وہ ناقابل بیان ہے،یہی وجہ ہے کہ← مزید پڑھیے
میری بات ان لوگوں کو سمجھ نہیں آسکتی جو “اسٹبلشمنٹی” ذہن یا اداروں سے تعلق رکھتے ہیں، یا خود ساختہ تقدس کے مالک ہیں۔ وہ تمام معاملات کو ریاستی نقطہ نظر اور تقدسی بھرم سے دیکھتے ہیں جبکہ میرا انداز← مزید پڑھیے
ایک انگریزی میڈیم سکول میں مجھے ملازمت ملی تو دیکھا کہ پرنسپل صاحب نے ایسا ماحول بنا رکھا ہے کہ وہاں اردو کا ایک لفظ بولنے کی آزادی نہیں ۔ حتیٰ کہ السلام علیکم بھی کہنے کی اجازت نہیں ۔← مزید پڑھیے
“بہت سے لوگ بہت بار یہ پیشگوئی کرتے رہے ہیں کہ یہ سب ایسے نہیں جاری رہ سکتا اور ہر ایک نے اس کی الگ الگ وجوہات بتائیں۔ ان سب میں یہ چیز مشترک رہی ہے کہ یہ سب غلط← مزید پڑھیے
سلطان محمود غزنوی کی یہ عادت تھی کہ کبھی کبھی رات کو لباس تبدیل کرکے شہر میں پھرا کرتے تھے۔ ایک شب ایسا اتفاق ہوا کہ ایک ویرانہمیں چار آدمی کھڑے نظر آئے۔ سلطان نے پوچھا کہ تم کون ہو؟← مزید پڑھیے