جہدِ آزادی چالیس کی دہائی ایک ہنگامہ خیز دور ہے ـ 1942 کو گاندھی نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک شروع کی ـ 1943 میں انگریزی استحصال کے باعث بنگال کو بدترین قحط کا سامنا کرنا پڑا جس نے لاکھوں افراد← مزید پڑھیے
اکیسوی صدی میں جہاں کہیں کچھ سُننے یا پڑھنے کو مِلتا ہے ساتھ میں لفظ “ترقی” ایسے چسپاں ہوتا ہے گویا واجب ہو۔ ان دونوں الفاظ کا مجموعہ بڑا فرحت بخش ہوتا ہے۔ آجکل ہم جس محفل میں بیٹھتے ہیں← مزید پڑھیے
مملکت خداداد پاکستان کی کشتی شدید ترین منجدھار میں پھنس چکی ہے۔ مقبول عام انگریزی فلم The Ten Commandments میں حضرت موسیٰ کے حالات زندگی کی عکاسی کی کاوش رچائی گئی ہے۔ مذہبی نکتہ نظر سے قطع نظر کہ آیا← مزید پڑھیے
جگنو کی نظر پڑی، ایک ڈری سہمی ہوئی خوشنما بلبل، گہرے اندھیرے میں لپٹی سسک رہی تھی۔ وہ بدن کی سرسراہٹ میں سنسناتا ہوا اس کے پاس گیا۔ وہ جگنو سے بولی مجھے گھر پہنچا دو۔ وہ بولا، میں لاچار← مزید پڑھیے
میلے کُچیلے بال، لمبی داڑھی اور پھٹے پرانے کپڑے پہنے وہ پٹھان ہوٹل کے تھڑے پر بیٹھا خالی نظروں سے دُور کہیں خلاؤں میں گُھور رہا تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد محلے کے بڑے بوڑھوں اور جوانوں کی اس← مزید پڑھیے
کچھ دن ہوئے اک شور بپا ہے۔ ساہیوال واقعے کا فیصلہ کیا آیا، سوشل میڈیا کے بد زبانوں کو گویا چھ گز کی ایک اور زبان مل گئی۔ معزز عدلیہ کے بارے میں ایسی گالم گلوچ کہ خدا کی پناہ۔← مزید پڑھیے
“امی پتہ ہے آج میں نے اسکول میں چاچاجی کی کہی ہوئی بات ٹیچر کو بتائی تو وہ بہت خوش ہوئی۔” میں نے امی کو بتایا۔ “اچھا کیا بات بتائی؟” امی نے پوچھا۔ “یہی کہ ہمیں ہمیشہ سب کو سلام← مزید پڑھیے
حال کی الجھنیں بڑھ جائیں تو ہم ماضی کا لحاف اوڑھ لیا کرتے ہیں- آیئے آپکو بھی شریک کریں- کیڈٹ کالج کوہاٹ کا Logo، ہمیں اب بھی اتنا پسند ہے کہ اپنےپرائیوٹ کالج( فاطمیہ کالج DIK)، کےlogo میں” من الظلمات← مزید پڑھیے
آج بیٹھا ہوا یوٹیوب استعمال کر رہا تھا تو سامنے ایک گانا آگیا ” ایک پیار کا نغمہ ہے موجوں کی روانی ہے زندگی اور کچھ بھی نہیں تیری میری کہانی ہے” ۔ ہے تو ایک گانا ہی مگر بات← مزید پڑھیے
کیا رواں ماہ کے باقی ایام یا اس سے اگلے چند مہینوں کے اندر سیاسی، سماجی، اور امور مملکت کے معاملات کچھ ایسا نیا رخ لے رہے ہیں، جس کے بعد پاکستان میں ہر چیز پہلے جیسی نہ رہے← مزید پڑھیے
معاشرہ ،طرز ِزندگی پر مکمل طور پر اثر انداز ہوتا ہے، انسان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے، ہم بحیثیت انسان ایک دوسرے سے باہم مربوط ہیں، ہماری ضروریات ایک دوسرے پر منحصر ہیں، اور ایسے میں یہ ممکن ہی نہیں← مزید پڑھیے
میرا بچپن سے یہ نظریہ رہا تھا کہ تعمیرِ زندگی کی بنیاد، باطنی خوبصورتی کی بجائے جسمانی نمود پر ہو۔ میں شاکرہ نندنی اپنی دنیا میں مگن آسمانوں کی سیر کرتی بادلوں پر قدم رکھتی آج اپنی بپتا لکھ رہی← مزید پڑھیے
عبداللہ طارق سہیل صاحب نے اپنی تحریر میں یہ انکشاف کیا ہے کہ مولانہ کا مارچ روکنے کے لیے پختون خوا کی صوبا ئی حکومت نے جے یوآئی کے عہداداروں اور ان کے لیڈرز کو خبردار کیا ہے کہ اگر← مزید پڑھیے
یوں تو فکر کا پیٹ بھرنے کو سوچ کے سارے در واء ہیں اور نظاروں کا ایک اژدھام ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں ان نظاروں کو دیکھتے ہوئےحیرت سے پھیلتی جا رہی ہیں۔ خیال کے آنگن میں عوام کے مستقبل سے← مزید پڑھیے
پچھلے دنوں ایک طالبعلم کی امتحان میں ناکامی کے باعث خودکشی اور ایک طالبعلم کی گھر سے غائب ہونے کی خبریں سنیں تو دل تڑپ سا گیا۔۔ یہ سوچنے پر مجبور ہوئی کہ ان واقعات کا ذمہ دار کون ہے← مزید پڑھیے
منٹو کشمیری تھا؟نہ بھی ہوتا تو تب کیا ہو جاتا؟۔ وہ لدھیانہ میں پیدا ہوا اور امرتسر میں جوان ہوا۔وہی رومانس کیے،دلی اور ممبئی میں پیسے کمائے،شرابیں پی۔اور امرتسر سے اس طرف واہگہ پار کرکے زندہ دلوں کے شہر،لاہور چلاآیا۔کشمیر← مزید پڑھیے
اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی فلاں، فلاں اور ڈھمکاں کو جو حقوق عطا فرما دیے تھے، وہ سر آنکھوں پر، وہ ہمارے مذہبی عقائد کا حصہ ہیں مگر انسانی تمدن چودہ سو برس میں بہت آگے← مزید پڑھیے
طلوعِ اسلام کے بعد دین کی تبلیغ و اشاعت میں اہلِ تصوف کا خصوصی کردار رہا ہے اور یہ کہنا ہر گز مبالغہ آرائی نہ ہوگی کہ برِصغیر میں اسلام کے تعارف وتبلیغ کا زینہ تقریباً مکمل طور پر صوفیوں← مزید پڑھیے
میرے دوست بھولا نے ایک معصومانہ سوال رکھا ہے کہ کیا پورے قرآن مجید کو زبانی حفظ کرنا لازم ہے؟ اور کیا حافظِ قرآن کو عالم سمجھا جائے گا؟ بھولا کے اس سوال پر میری چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔← مزید پڑھیے
میو ہسپتال کے باہر ایک ریڑھی کے ساتھ کھڑا جوس پی رہا تھا کہ والد صاحب اور بڑے بھائی میرے پاس آئے، دونوں کے چہرے پتھرائے ہوئے تھے۔ انہوں نے خاموشی سے میرا ہاتھ پکڑا، ریڑھی والے کو اس کا← مزید پڑھیے