آدمی سفر میں کھلتا ہے- اپنے سعودی کولیگ “انجینئر انس” کے ساتھ طویل سفر ہوا توگپ شپ لگی،باقی بات کا خلاصہ، اسی کی زبانی سنیے- ” شادی کے بعد کئی برس تک میری اولاد نہ ہوئی،میری بیوی میری ماں کی← مزید پڑھیے
میں جب مر جاؤں،تو سٹیٹس لگا کر مُجھ سے پیار مت جتانا۔ بلکہ گھروں میں بیٹھی ان بیٹیوں اور بہنوں کا سوچنا،جن کے بالوں میں چاندی اُتر آئی ہے۔اُن کے دم توڑتے خوابوں میں دوبارہ سے زندگی کے رنگ بھر← مزید پڑھیے
5 اگست 2019 کو انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اور اس کے ساتھ ہی پورے کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا۔ کرفیو← مزید پڑھیے
اسلامی شریعت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے نسب کو تحفظ حاصل ہو۔ ہر پیدا ہونے والے بچے کا یہ حق ہے کہ اسے معلوم ہو کہ اس کی ماں کون ہے اور اس← مزید پڑھیے
رنگین روشنیوں میں ہجوم کے درمیان بے چین کھڑا وہ بازار حُسن کی اونچی اونچی عمارتوں اور کھڑکیوں کو دیکھ رہا تھا۔اسکی نگاہوں میں شدید انتظار اور کچھ چمک سی تھی ,ایسی چمک جو کسی کی آنکھوں میں عرصے بعد← مزید پڑھیے
اگر آپ کی فین فالونگ پانچ ہزار سے تجاوز کر جائے،یا دس تک کا ہندسہ چُھو لے،تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا،کہ آپ اپنے ہم خیال دانش گردوں کا ایک جھمگٹا بنائیں اور کسی بھی انسان کی عزت← مزید پڑھیے
میں شاید آٹھویں جماعت میں تھا کہ محلے میں ایک سٹیشنری شاپ پر “آنہ لائبریری” کا آغاز ہوا۔ اگر آنہ لائبریری کے ذکر سے سے آپ میری عمر کا اندازہ لگا رہے ہیں تو تصحیح کرتا چلوں کہ یہ لفظ← مزید پڑھیے
بچے قوم کا مستقبل اور حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں،اقوام عالم نے بچوں کے حقوق کی فراہمی کے حوالے سے بہت بڑے اور موثر اقدامات کیے ہیں لیکن دوسری جانب اگر ہم اپنا تجزیہ کریں اور اپنا موازنہ مہذب اقوام سے← مزید پڑھیے
بچپن میں ہم جینا سیکھ رہے ہوتے ہیں اور ڈھلتی عمر زندگی نبھانے کا دور ہوتی ہے۔ جبکہ جوانی حسن، خواب،چاہتوں، مسکراہٹوں اور نئی ا’منگوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔ یہ دور زندگی کو بھرپور جینے کا ہوتا ہے۔← مزید پڑھیے
مشیر ِتعلیم خیبر پختونخوا نے ہزارہ کے ای ڈی او کی جانب سے گرلز سکولوں میں عبایا اور پردہ کرنے کی بات کرکے ایک نئی گفتگو کا آغاز کر لیا ہے ۔جس کے بعد خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں طالبات← مزید پڑھیے
میں جب بھی چشم تصور میں مسجد نبوی ﷺ میں نجران کے عیسائیوں کا وفد بیٹھے دیکھتا ہوں تو روح وجد میں آجاتی ہے۔ مذہبی رواداری کے امین اور امن کے سفیر محمد ﷺ کے لئے درو د و سلام← مزید پڑھیے
بیسویں صدی کے ادیب، مولوی نور احمد چشتی، نے لاہور کی تہذیب کے بارے میں اپنی کتاب ”یادگارِ چشتی“ (سنِ تصنیف 1859ء) میں اس صدی کے لاہور میں عزاداری کا نقشہ بھی پیش کیا ہے۔ ذیل میں اس کتاب سے← مزید پڑھیے
ہندوستان کے علاقے مدھیا پردیش کا ایک ضلع بھوپال جو کہ ایک ہندو راجہ بھوج پال کے نام پر ” بھوج پال” سے بگڑ کر بھوپال بن گیا۔ بھوج پال کے راجہ کو عرف عام میں راجہ بھوج کہا جاتا← مزید پڑھیے
میں نے پچھلے سال بھی مکالمہ پر اک کالم لکھا تھا جس کا مرکز و محور صرف اور صرف عوام الناس کی تکلیف کا مداوا کرنا تھا نا کہ کسی مسلک یا فرقے کی دلآزاری ۔۔۔محرم الحرام جہاں اسلامی سال← مزید پڑھیے
گفتگو کے معیار سے جو گرجائے چیخ چیخ کر جہالت اپنی دکھلائے ایسے لوگوں کو تم صحافی کہتے ہو؟؟؟ پچھلے دنوں کسی خاص چینل کی ملازم ڈاکٹر پلس خواہ مخواہ کی صحافی کا کلپ وائرل ہوا جس میں وہ بانی ایم← مزید پڑھیے
”تذکرہ پوٹھوہار“کے مؤلف و مترجم محمد ارتاسب کتاب کے صفحہ نمبر 352پر گاؤں آرجن(موجودہ ارجن)کی وجہ تسمیہ بارے لکھتے ہیں کہ”پہلے اس جگہ کھتری گوت سہوترہ آباد تھے،مسمی آرجن ولد بجنیار، سارنگ خان کے عہد میں آکر آباد ہوئے،بعد ازاں← مزید پڑھیے
زار روس نے غالباً اٹھارویں صدی کے اواخر میں روس کی ترقی کے لیے طلبا کو یورپ بھیجنے کی پالیسی اختیار کی، ـ اس پالیسی کا مقصد نوجوانوں کو اعلی تعلیم و تربیت فراہم کرنا تھا تاکہ وہ واپس آکر← مزید پڑھیے
میرے چہار جانب احباب موجود ہیں جو مجھے حوصلہ دے رہے ہیں میری ہمت بندھا رہے ہیں۔ میں اتنی جلدی ہمت ہارنے والا نہیں لیکن ایک ہمہ جہتی زوال ہے جس کے ایک سرے پہ ہمارا معاشرہ کھڑا ہے۔ بلکہ← مزید پڑھیے
گائے ایک شکتی شالی چوپایہ ہے۔کبھی بھی اسے بے لگام نہیں دیکھا گیا۔مسئلہ بیل کا ہو سکتا ہے۔مگر وہ سانڈ نما بیل جو ہر طرح کے کام سے آزاد،کلے سے بندھاصرف چارہ کھاتا ہے۔کمزور ہڈیاں نکلے،لاغر بیل جن پر منوں← مزید پڑھیے
رہی سہی کسر مارکیٹ میں دستیاب حاجی پوری کر دیتے ہیں۔ پشتون علاقے میں جو جتنا بڑا حاجی ہوگا اتنا ہی بڑا منشیات کا ڈیلر بھی۔ میرے ایک جاننے والے صاحب نے پہلے حج کے بعد نوادرات کی سمگلنگ کا کاروبار شروع کیا (نوادرات نادرہ کی جمع ہرگز نہیں۔۔ بلکہ ہو بھی سکتی ہے)۔ دوسرے حج کے بعد گاڑیوں کے پارٹس کی سمگلنگ کا۔ اس کے بعد میں نے ان کے کاروبار کی گنتی چھوڑ دی۔ پچھلے ہفتے اماں بتا رہی تھیں حاجی صاحب نے سات حج کر لیے ہیں۔ میرے ذہن میں سمگلنگ کی کل چار پانچ ہی اقسام ہیں۔ سوچتا ہوں مل ہی لوں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کچھ نہیں رکھا۔← مزید پڑھیے