محترمہ فاطمہ جناح، قائداعظم محمد علی جناح کی صرف بہن ہی نہیں تھیں بلکہ وہ ان کی فلسفہ حیات اور ان کی جمہوری اور سیاسی فکر کی بھی امین تھیں۔ ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ اپنے عظیم بھائی← مزید پڑھیے
محترمہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا اسلام پسندوں کا حق نہیں کہ بے حیائی، بے پردگی اور بے شرمی کو ان پر مسلط نہ کیا جائے۔ عرض ہے کہ سارا مدعا اسی آزادی کا ہے جس کی بابت اوپر بات کی گئی۔ یہ انٹرنیٹ، سینکڑوں چینلز اور لاکھوں پیجز کا دور ہے۔ مسلط کرنا یہ ہوتا ہے کہ رمضان میں ہوٹل بزور قوت بند کر دیے جائیں۔ مسلط کرنا یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ سینکڑوں دستیاب چینلز میں سے وہی چینل لگا کر بچوں کو دکھایا جائے جو آپ کے نزدیک بے حیائی پھیلا رہا ہے۔ اگر آپ کو خوف ہے کہ بچے بے حیائی کی جانب جائیں گے تو آپ یہ مان رہے ہیں کہ نئی نسل کا میلان آزاد طبع ہونے پر ہے یا کسی قسم کی مذہبی گھٹن کے خلاف ہے۔← مزید پڑھیے
سرکاری و غیرسرکاری مین سٹریم میڈیا یعنی ریڈیو، ٹیلی وژن، اخبارات سے جُڑے رہنا سب سے بے فائدہ سرگرمی اور وقت کا مکمل ضیاع ہے۔ موجودہ دور میں چاہے میڈیا کسی بھی ملک یا ریاست کا ہو _ وہ اہم← مزید پڑھیے
وہ پانچ بھائی تھے-ان کے گھر کا دستو ر تھا کہ ہر دو سال بعد ایک بھائی کو جوائنٹ فیملی سسٹم کا سربراہ بنایا جاتا تھا۔ جس کے فرائض میں گھر کے معاشی نظام سے لے کر معاشرتی نظام تک← مزید پڑھیے
ہماری گزارش یہ ہے کہ اگرجدید دنیا کی طرح پاکستان میں بھی مخصوص مقامات پربار کلب موجود ہوں تواس سے اسلامی ریاست کو کوئی خطرہ نہیں- جدید دنیا میں بھی سرکاری وتعلیمی مقامات پر مے نوشی کرنا ممنوع ہے- غل← مزید پڑھیے
ہمیں کتب کی چاٹ کب اور کیوں لگی، یہ آج تک معلوم نہ ہوسکا۔۔ لیکن اتنا یاد پڑتا ہےکہ بچپن میں، یہ سلسلہ عمرو عیار کی کہانیوں سے شروع سے ہوا اور آج تک جاری ہے۔ گھر میں غیر نصابی← مزید پڑھیے
اس حادثے کے لے دے کر دو ہی متاثرین تھے، ایک میں، دوسراسہراب، سہراب کسی زمانے میں سائکل تھا، نجانے کب ڈارون کو پڑھ لیا، آجکل موٹر سائیکل ہے۔ میرا خیال مختلف ہے، سائیکل سے موٹر سائیکل بننے کی وجہ← مزید پڑھیے
فی زمانہ سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہےجس کے ذریعے آپ کسی بھی معاشرے میں جس طرح کی تبدیلی لانا چاہیں بہت آسانی سےاور بہت تیزی سے لا سکتے ہیں۔ ہر طبقے اور← مزید پڑھیے
دنیا میں سب سے پہلے جنسی ہراسمنٹ کی جو تاریخ میں نظیر ملتی ہے وہ حضرت یوسف علیہ سلام اور زلیخا کی ہے۔ پر مزے کی بات ہے کہ یہ ہراسمنٹ زلیخا کی طرف سے تھی یعنی ایک عورت کی← مزید پڑھیے
ایدھی میرے محبوب تھے وہ ہمیشہ سے میرے آئیڈیل رہے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اپنے محبوب کا پہلا دیدار میں نے 2009 میں اس وقت کیا تھا جب میں فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا۔ کالج سے← مزید پڑھیے
“ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں ۔۔۔۔ نایاب ہیں ہم ” آہ ۔۔۔۔!! تین سال پہلے آج کے دن ہم نے ایک انمول رشتہ کھودیا ۔ ایک ایسا چہرہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا جس میں ہمیں اپنا← مزید پڑھیے
شراب پہ قانون سازی بارے، سیکولرز، مسلم سیکولرز اورروایتی علماء کاموقف پیش خدمت ہے-(شروع میں عرض کیا تھا کہ خاکسارکےنزدیک سیکولرزم کا مبداء حقیقی، اسلام ہے- آپ بھی موازنہ کرلیجئے گا)- شراب اور سیکولر معاشرے: سیکولرسماج میں، اپنی پرائیوسی میں← مزید پڑھیے
ایک مولوی صاحب کے گھر میں پڑوسی کا مرغ آ گیا۔ ان کی بیوی نے مرغ پکڑ لیا اور ذبح کر کے پکا بھی لیا۔ جب مولوی صاحب شام کو کھانے پر بیٹھے تو مرغ دیکھ کر پوچھا کہ ’’یہ← مزید پڑھیے
وہ شادی کے دوسرے دن جب میکے آئی تو کچھ بجھی بجھی سی تھی۔ گھر والے خود تھکے ماندے تھے۔ کزنز کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے جب مہر نے دلہا بھائی کا پوچھا تو مائرہ چپ سی ہو گئی۔ اس← مزید پڑھیے
فیروز خاں نون پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم تھے وہ 1920 میں سیاسی میدان میں داخل ہوئے تھے اس لیے وزیر اعظم بننے سے پہلے بہت گہرا سیاسی تجربہ رکھتے تھے اور چونکہ وہ ملک غلام محمد اور سکندر مرزا← مزید پڑھیے
کتاب کا سرورق دیکھا، نام پڑھا اور کتاب پڑھتے قلم ہاتھ میں رکھتی ہوں، املا کی اغلاط اور محاورات وغیرہ عادتاً درست کرتی جاتی ہوں، یہاں بھی ”اک چپ سو سُکھ“ لکھ دیا ۔ فہرست میں اٹھارہ افسانے شامل تھے← مزید پڑھیے
ہر جذبہ جنم لینے کے لیے محبت کا محتاج ہوتا ہے ۔ہر احساس محبت سے کشید کیا جاتا ہے ۔ حسد، نفرت، غصہ،دکھ، درد، خوشی، راحت، مسرت، سکون ان کا بظاہر کوئی وجود نہیں ہے، یہ محبت سے جنم لیتے← مزید پڑھیے
موجودہ دور میں پولیس اور سیاستدان کا ساتھ چولی دامن کا ہے جب سے پولیس جوائن کی ،مختلف ادوار میں کبھی بھی کوئی MPA یا MNA تھانہ پر یا کسی آفس میں نظر نہیں آتا تھا۔ پھر ایک دور آیا← مزید پڑھیے
کَل، زندہ لوگ کے اجلاس میں یہ موضوع زیربحث تھا کہ ’’آج کل مزاحمتی ادب کیوں نہیں لکھا جارہا؟‘‘مجھےایک خیال آیا کہ ’’مزاحمتی ادب دورِ مزاحمت میں ہی لکھاجائےگانا؟‘‘ ہم لوگ نہ تنگ ہیں اور نہ ہی ابھی آمادۂ جنگ← مزید پڑھیے
ماں جی بتا رہی تھیں کہ بھٹو صاحب جب جیل میں تھے، تب بچے نعرے لگایا کرتے تھے۔۔۔”مُلّا ڈَھٹھا(گرا) تیل وچ۔۔۔ بھٹو مریا جیل وچ” اگلا نعرہ جو انہوں نے بتایا اس کی خالی جگہ خود پُر کیجیے گا۔ “ملّا← مزید پڑھیے