اقبال پارک کے حادثے کے پس منظر میں مختلف اہل دانش نے جو گفتگو کی، اس کی روشنی میں بنیادی غور طلب سوال یہ سامنے آتا ہے کہ مشرقی معاشروں میں عورت کی تقدیس اگر ایک قدر کے طور پر← مزید پڑھیے
نفسیاتی مسائل کے حوالے سے ہمارا عمومی رویہ ایک ایسی نظر اندازی کا شکار ہے جس کو عقل تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے ہر خاص و عام ، تعلیم یافتہ و غیر تعلیم یافتہ کے نزدیک اوّل تو نفسیاتی← مزید پڑھیے
یورپ کا کاٹن پر راج بڑی خاموشی سے ختم ہو گیا۔ یہ 1963 تھا۔ دسمبر کی سرد اور بارش والی صبح کو لیورپول میں کاٹن ایکسچینج بلڈنگ میں کچھ لوگ جمع تھے۔ یہ اس سلطنت کا ہیڈکوارٹر ہوا کرتا تھا← مزید پڑھیے
ہماری جہالت کہیے یا کچھ اور کہ ہم بے اولادی، بچوں میں وراثتی جینیاتی معذوریوں کا ہونا، بیٹے کی بجائے صرف بیٹیاں پیدا کرنے کو اکثریت میں لڑکی سے جوڑتے ہیں۔ اور اسے مبینہ طور پر اس کا قصور وار← مزید پڑھیے
ہندوستانی، مصری اور چینی صنعتکاروں کو اس بات کا احساس ہو رہا تھا کہ برٹش کالونیل حکومت ان کے مفادات کی حفاظت نہیں کر رہی۔ اس کے لئے ترجیح لنکاشائر کی صنعت ہے۔ یہ طبقہ کالونیل حکمرانی کے خلاف ہونے← مزید پڑھیے
محبوب کی زندگی کا آخری دن ہے۔ سب ہی دیوانے اپنے محبوب کے مرض کی وجہ سے جِی چھوڑے بیٹھے ہیں۔ یہ دیوانے دیدار کو بھی ترس رہے ہیں۔ محبوب بیماری میں اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ بستر← مزید پڑھیے
خالد حسینی ایک امریکی افغانی ناول گار ہیں۔ وہ چار مارچ 1965 میں کابل میں پیدا ہوئے۔ ان کا پہلا ناول دی کائٹ رنر (2003) ایک تنقیدی اور تجارتی کامیابی تھی۔ اس کتاب کے ساتھ ساتھ اس کے بعد کے← مزید پڑھیے
انہیں میری پھوپھی کہہ لیں کہ وہ میرے والد کی کزن ہیں۔ شانگلہ کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں وہ پہلی معلمہ ہیں۔ گھر اور خاندان میں اُن کو پکارے جانے والے تین نام مماں، بی بی گل اور بھابھی← مزید پڑھیے
دریائے سواں، پانچ دریاؤں کے بعد پنجاب کا چھٹا بڑا اور پوٹھوہار کا اہم ترین دریا ہے۔ یہ مری کی پہاڑیوں سے شروع ہو کر اسلام آباد، راولپنڈی، چکوال اٹک اور میانوالی کے اضلاع سے ہوتا ہوا کالا باغ کے← مزید پڑھیے
“میں اپنے ملک کو یورپ اور امریکہ کے برابر لانا چاہتا ہوں۔ میں نے جتنی تاریخ اور جغرافیہ پڑھا ہے، اس سے یہ سمجھ آ چکی ہے کہ مغربی دنیا میں دولت، عسکری طاقت، تہذیب اور روشن خیالی کی جڑ← مزید پڑھیے
موت کتنی بھیانک چیز ہے اس کا اندازہ مجھے زندگی میں تین بار شدت سے ہوا‘پہلی دفعہ جب میں اپنے والد کو کامرہ چھاؤنی کے فوجی ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتے دیکھ رہا تھا‘وہ شخص جو زندگی← مزید پڑھیے
ماں بارہویں سال ہی ٹوکنے لگی تھی مگر راشدہ کو سمجھ دو سال بعد آئی ۔۔۔جب شفیع دکاندار کی نظر چہرے کی بجائے دو ہاتھ نیچے رکنے لگی تھی۔۔۔شفیع کی دوکان پہ ماہانہ کھاتہ چلتا تھا ۔۔مجبوری تھی دن میں← مزید پڑھیے
پروفیسر غازی علم الدین بڑی مہربان ادبی شخصیت ہیں میرے گھر کی لائبریری کے لئے ایک ساتھ تین کتا بیں بھیج دیں اور وہ کتابیں جو اردو اد میں غازی علم الدین کی پہچان ہیں ۔اردو کا مقدمہ اور میزانِ← مزید پڑھیے
ساڑھے چار فٹ کاقد،گول گول سر،بیضوی چہرہ،اس پر سفید داڑھی۔چھوٹے چھوٹے ہاتھ اَور ان کی موٹی کھردری اُنگلیاں اُن کیساتھ ایک دہقان کاسااَنگوٹھا۔ہاتھوں سے مشقت کی بو آئے۔یہ تھے گل محمد خان۔جن کے نام کی پہاڑی تصغیر ہی معروف ہوگئی← مزید پڑھیے
احمدآباد آج ساٹھ لاکھ کی آبادی کا شہر ہے۔ آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے یہاں پرانے ادارے تھے۔ صراف اور مہاجن کاربار پر حاوی تھے۔ اشیا کی جانوروں پر لاد کر کچے راستوں پر دوسرے علاقوں سے تجارت ہوتی← مزید پڑھیے
“یہ بہت قدیم اور مشہور درگاہ ہے۔” مجاور نے تعارف کرانا شروع کیا۔ “لوگ دور دور سے دیکھنے آتے ہیں۔” میں جوتے اتارے اندر داخل ہوا۔ “دو بزرگ مدفون ہیں، والد اور بیٹا۔” سنگِ مرمر کا فرش واقعی لاجواب تھا۔← مزید پڑھیے
“ ڈئیوس، علی اور دیا” نعیم بیگ صاحب کی تصنیف ہے، یہ خوبصورت ناول ہماری دوست گل بانو نے ایک ملاقات میں ہمیں پڑھنے کے لئے عنایت کیا جو مصنف نے انہیں اپنے دستخط کے ساتھ ارسال کیا تھا، نعیم← مزید پڑھیے
خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں ایک شخص کے کتے نے دوسرے شخص کا پالتو پرندہ کھا لیا، پرندےکے مالک نے کتے کو فائرنگ کرکےمار دیا۔ فریقین کے درمیان تکرار ،ہاتھاپائی اور بعد میں فائرنگ ہوئی اور نیتجے میں تین← مزید پڑھیے
اگر کسی سے پوچھا جائے کہ کامیابی کیا ہے ؟ تو اس کی تعریف ہر انسان کی نظر میں مختلف ہو گی ـ میری نظر میں اپنے خوف پر قابو پا لینا ‘ پہلا قدم اُٹھا لینا ‘ فیصلہ کر← مزید پڑھیے
نومبر 1900 کی طوفان صبح تھی جب نیویارک کی بندرگاہ سے جرمنی کے لئے بحری جہاز دو ہزار مسافر لے کر نکلا۔ اس میں چار مسافر جیمز کولووے، جان رابنسن، ایلن برکس اور شیپرڈ ہیرس تھے۔ یہ چاروں الابامہ کے← مزید پڑھیے