تاریخ عالم میں مذہبی نقطہ نظر سے نبیﷺ اور صحابہ کے جہاد کی معنویت کو جتنی بصیرت سے یہودی مورخہ پیٹریشیا کرون نے بیان کیا ہے، شاید کسی مسلم مورخ نے بھی نہ کیا ہو۔ اپنے یہودی پس منظر کی← مزید پڑھیے
جنگ بندی ہو چکی تھی۔ امریکہ سے غلامی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ ایک وقت میں چالیس لاکھ تک غلام تھے، آزاد ہو چکے تھے۔ آزادی کے اس جشن کے ساتھ سوال یہ تھا کہ اب کیا ہو گا۔ 1865← مزید پڑھیے
راجہ روی ورما کی وجہ سے ہی ’کلینڈرآرٹ‘ کو فروغ ملا۔ ان کے Oleographic Art کی مقبولیت اتنی بڑھی کہ1894 میں Oleography Press قائم کیاگیا جس کانام روی ورما پکچرس ڈپوٹ رکھاگیا۔ یہ پریس دیوان آف بڑودہ کے مشورہ پر← مزید پڑھیے
حضرت امام غزالی اسلامی تاریخ کے مشہور مفکر،متکلم اور دنیائے تصوف کا وہ درخشاں ستارہ ہیں جس کی کرنیں پانچویں صدی ہجری کے وسط میں دنیائے اسلام میں نمودار ہوئیں۔حضرت ابو حامد غزالی کو اہل مغرب عظیم فلسفی، حکیم اورصوفی← مزید پڑھیے
امریکہ میں خانہ جنگی جاری تھی۔ اس نے کپاس کے نرخ بہت چڑھا دئے تھے۔ یہاں پر عثمانی وائسرائے محمد سعید پاشا نے موقع دیکھا۔ وہ ایک بہت بڑے جاگیردار تھے۔ انہوں نے اپنی زمینیں کپاس پیدا کرنے کے لئے← مزید پڑھیے
زیادہ تر وجود پرستوں کا خیال ہے کہ تھیٹر اور ڈرامہ ایک اہم فن کی ہیت ( آرٹ فارم) ہے ، یعنی وہ فنکار جو اپنی آزادی کو ایک مجازی دنیا بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے جو بیک وقت← مزید پڑھیے
غالب نے کہاتھا: سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئے شاید راجہ روی ورما نے بھی اپنی محبوبہ کے لیے ہی مصوری سیکھی ہوگی مگر وہ خود ہی مصوری کی وجہ سے ’محبوب‘← مزید پڑھیے
وہ فلمیں نچلے کچلے طبقات میں سپرہٹ کیوں ہوتی ہیں جن میں ہیرو آخر تک ولن کا مقابلہ کرتے کرتے یا جان دے دیتا ہے یا لے لیتا ہے ؟ ۔تالیاں دونوں صورتوں میں بجتی ہیں اور ہیرو کو دونوں← مزید پڑھیے
ریاستیں اپنی بقا کیلئے سہ قسمی قوتّوں کی متلاشی رہتی ہیں، فکری، معاشی اور عسکری قوت ۔ فکری اور معاشی قوتّیں اپنی جگہ پر اہم ضرور ہیں، مگر حتمی کردار عسکری قوت کا ہی رہا ہے، فکری و معاشی طور← مزید پڑھیے
امریکی خانہ جنگی جاری تھی جس نے کپاس کا بحران پیدا کر دیا تھا۔ امریکہ اور لیورپول سے ہزاروں میل دور اس سے مقابلہ کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کی جا رہی تھی۔ اس میں ہندوستانی تاجر اور کاشتکار، برطانوی← مزید پڑھیے
کارل مارکس کا مشہور قول ہے: ‘تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ، اول المیہ کے طور پر ، دوسرا طنز کے طور پر۔’ کابل دنیا کا وہ معروف شہر جو زبان زد عام ہے۔ لیکن ٹھہریے یہ دبئی، پیرس،← مزید پڑھیے
آٹزم کو سمجھنا ایک عام انسانی فہم کے لئے بہت مشکل ہے اور اِس مشکل کا سامنا کرنا والدین کے لئے بھی آسان نہیں۔ خاص کر ماں کیونکہ ماں بچے کے بہت قریب ہوتی ہے، بچہ جتنا ماں سے اٹیچ← مزید پڑھیے
15 اگست 2021ء کو سقوط ساگون کی طرح سقوط کابل بھی ہو گیا، وہ شاگرد (طالبان) جن سے افغانستان کو نجات دلانے کی نوید لیکر امریکہ افغانستان کا نجات دہندہ بن کر آیا تھا، آج افغانستان سے وہ اور اسکے← مزید پڑھیے
اپریل 1861 کو فورٹ سمٹر میں بندوق سے اگلی جانے والی گولیاں امریکی خانہ جنگی کا آغاز تھیں۔ اور اس وقت امریکہ کی برآمدات کا 61 فیصد خام کپاس تھی۔ یورپ کی صنعت اس پر منحصر تھی۔ سستی زمین، غلامی← مزید پڑھیے
طالبان جنگجو ۲۰ سال کی گوریلا جنگ لڑنے کے بعد ایک مرتبہ پھر افغانستان پر قابض ہو چکے ہیں۔ تاہم اس بار ان کو پورے کا پورا ملک پلیٹ میں مفت پیش کیا گیا۔ لیکن ان کا راستہ پہلے سے← مزید پڑھیے
کراچی کے فائیو اسٹار ہوٹل میں ایک سیشن کروا کرگاڑی میں بیٹھے ہی تھے،کہ موبائل ڈیٹا آن کیا تو پاکستان کے واحد فنڈ ریزنگ ایکسپرٹ محمد عمر کمال صاحب کی سٹوری سامنے آئی۔ دو ڈھائی گھنٹے سیشن کے بعد تھکاوٹ← مزید پڑھیے
بدقسمتی سے نااہلوں اور نکموں کا ٹولہ ملک پر سوار ہے، وہی چہرے بار بار روپ بہروپ بدل کر حکومت کر رہے ہیں اور خون لگا کر شہیدوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ محترم شیخ رشید صاحب اور خالہ فردوس← مزید پڑھیے
ڈاکٹر ظفرحسین ظفر صاحب نے جب راولاکوٹ کی پتھریلی زمین سے ”ارقم“ کا پہلا شمارہ ہی نکالا تو ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ ایک فرہاد صفت انسان ہیں۔”ارقم“ راولاکوٹ سے شائع ہونے والا پہلا اور شاید آخری ادبی← مزید پڑھیے
تجارتی روابط بنانے میں ذاتی مراسم کی بڑی اہمیت تھی۔ خاندان کے افراد، پرانے دوست، قابلِ اعتبار واقف کار۔ انیسویں صدی کا ایک اہم ترین ٹریڈنگ ہاوس رالی برادران کا تھا۔ دنیا بھر میں پھیلی ان کی سلطنت اناطولیہ کے← مزید پڑھیے
نوری اپنی زندگی کے اٹھائیس سال گزار چکی تھی مگر ابھی تک اُس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ اُس کی عمر گزرتی جا رہی تھی ،اس کی دوستوں میں سے کوئی بھی کنواری نہیں تھی۔ زوبیدہ، ہمیسا،پروین ،گل بانو، سب← مزید پڑھیے