نگارشات    ( صفحہ نمبر 482 )

ورچوئل رشتے۔۔عارف خٹک

میں نے سب سے زیادہ محسن داوڑ کے خلاف لکھا، کرک میں تحریک انصاف کی مقامی قیادت کیخلاف لکھا، ایسے ایسے مسائل میں ذاتی طور پر الجھ بیٹھا جہاں جان بھی جاسکتی تھی۔ آپریشین ضرب عضب میں فوج کے خلاف←  مزید پڑھیے

کرونا وائرس اور SPD۔۔رضوان یوسف

کرونا کے بارے میں تو ہم سب جان چکے ہیں کہ یہ خطرناک ہے اور اس سے بچنے کے لئے ہمیں آئسولیٹ ہونا ہے ۔ لیکن یہ آئسولیشن ہماری شخصیت پر کتنی اثر انداز ہو سکتی ہے اس کے لئے←  مزید پڑھیے

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(قسط 60)۔۔گوتم حیات

آج اتوار کا دن ہے اور ماہِ جون کی چودہ تاریخ ہے۔ حسبِ معمول ہر اتوار کی طرح اس اتورا کو بھی صبح اٹھ کر میں نے ایکسپریس اخبار کی ویب سائٹ پر میڈم زاہدہ حنا کا کالم تلاش کیا،←  مزید پڑھیے

کافرستان میں ٹوٹتے مجسمے اور اسلامستان میں اکھڑتے مزار۔۔حافظ صفوان محمد

وسعت اللہ خاں و مبشر علی زیدی اور بعض دیگر دوست آج کل تواتر سے بعض ممالک میں لگے ہیروؤوں کے مجسموں کے توڑے جانے اور ان کی بے حرمتی کے بڑھتے واقعات کی سماجی اور نفسیاتی وجوہات کو ذکر←  مزید پڑھیے

گلوبلائزیشن کو الوداع، قوم پرستانہ عہد کو خوش آمدید۔۔حمزہ زاہد

اس عالمی وباء کے آنے سے پہلے بھی عالمگیریت (globalization) کو خطرات لاحق تھے۔ آزادانہ تجارت کا نظام، جس نے ساری دنیا کی معیشت پرکئی عشروں سے مکمل غلبہ حاصل کر رکھا تھا، مالیاتی خسارے اور امریکہ اور چین کے←  مزید پڑھیے

بحث ۔ گمشدہ آرٹ۔۔۔وہاراامباکر

اگر آپ لوگوں سے بات چیت کرتے ہیں تو آپ کا وقت بحث میں گزرا ہو گا۔ شاید روزانہ ہی۔ بحث وہ چیز ہے جو ہر کوئی کرتا ہے لیکن کم لوگ اس کو سمجھتے ہیں۔ یہ کریٹیکل سوچ کے←  مزید پڑھیے

کورونا کی عالمی وباء اور لیڈرشپ کا کردار۔۔بدر غالب

ہم انسان زندگی کے مختلف شعبہ جات سے منسلک ہوتے ہیں۔ ہمارے سامنے ان شعبہ جات کے مقاصد و ترجیحات ہوتی ہیں۔ ہم ان ترجیحات کو روزمرہ کی ترجیحات، درمیانے عرصہ کی ترجیحات اور لمبے عرصے کی ترجیحات و مقاصد←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر مبارک علی کتاب “تاریخ اور سیاست”/ ایک تبصرہ۔۔شہزاد بلوچ

کتاب تاریخ اور سیاست ڈاکٹر مبارک علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 2016 میں تاریخ پبلیکشنز لاہور نے شائع کی۔ اس کتاب میں کل تین باب ہیں۔ پہلا باب تاریخ کے متعلق مضامین پہ مشتمل ہے۔ دوسرا باب امپیریل ازم←  مزید پڑھیے

سب سے پہلے یاد رکھیں کہ گھبرانا نہیں ہے۔۔محمد طیب

یہ جملہ ہر زبان زدِ عام ہے ایک مشہور شخصیت نے جو کہا ہے۔ اس پر مجھے ایک کہانی یاد آرہی ہے جو میں نے پڑھی اور رہا نہ گیا کہ آج کچھ لکھ ڈالوں۔ تو بات کچھ یوں ہے←  مزید پڑھیے

ایک ہنستا مسکراتا شخص خودکشی کیوں کرتا ہے؟۔۔ضیغم قدیر

باہر سے پرسکون نظر آنے والے وجود کے اندر کتنی جنگیں چل رہی ہوتی ہیں یہ کوئی نہیں جانتا۔ یہ جنگ چھوٹی سی بات پہ بھی شروع ہو سکتی ہے۔ جیسے کوئی کہے تمہارے منہ پہ کتنا برا دانہ نکل←  مزید پڑھیے

انسپکٹر چوہدری صادق گجر شہید کا قتل(آخری قسط)۔۔عزیزا للہ خان

بُرے کام کا بُرا نتیجہ ایس ایس پی اعظم جوئیہ کا فون سُنتے ہی ایک دفعہ تو میں پریشان ہو گیا مگر میں اپنی پریشانی اپنے ماتحتوں کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اب تک جتنے بھی دہشت گردی←  مزید پڑھیے

کُسک فورٹ، چکوال۔۔ظاہر محمود

پچھلے جمعے کی بات ہے، خواجہ عبداللہ نے چکوال کی ایک نواحی بستی بن امیر خاتون کے ایک قبرستان کی تصویر بھیجی کہ جس میں وہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق پرانے وقتوں میں شادی کے لیے آنے والی ایک←  مزید پڑھیے

پہلا تبلیغی دورہ۔چندایک یاداشتیں ( دسویں ،آخری قسط)۔۔علیم رحمانی

ہم نے بائیک رکتے ہی ایک زوردارچیخ مار کراپنی دانست میں شہادت سے پہلے آخری احتجاج ڈائیور صاحب اور کتے سے بالترتیب کرلیااور آنکھیں موند کرزیرلب کلمہ پڑھنے لگےکیونکہ یہ دیکھناہی بے کار تھاکہ کتاپہلے کس پہ حملہ کرتاہے یاکس←  مزید پڑھیے

آن لائن کلاسِز پر ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن(DSF) اور ڈیموکریٹک یوتھ فرنٹ (DYF) کا مشترکہ نکتہ نظر

کرونا وائرس کی وبا نے جب دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دُنیا کا نظام اور اس کی رفتار یک دم رُک سی گئی۔ کوئی بھی شعبہ ہائے زندگی اس وبا سے شدید متاثر ہوئے←  مزید پڑھیے

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(قسط59)۔۔گوتم حیات

دوہزار بیس سے دوہزار اکیس تک کا بجٹ پیش کیا جا چکا ہے، کچھ لوگوں کو ابھی بھی امید تھی کہ وبا کی وجہ سے عوام کا جو معاشی نقصان ہوا ہے اس کے ازالے کے لیے بجٹ کو ہر←  مزید پڑھیے

کشف الذات۔۔صائمہ بخاری بانو

ہم انسان کسی مینا بازار میں سجے مٹی کے بے جان رنگین کھلونے نہیں، نہ ہی بازیچوں اور میلوں میں چند ٹکوں کے عوض رنگ برنگی تصاویر دکھانے والا ٹیلی سکوپ، نہ ہی کٹھ پتلی کا تماشہ جو پس پردہ←  مزید پڑھیے

پڑھنا تو بچے نے اپنا ہی ہوتا ہے۔۔محمد عماد عاشق

ہم میں سے ہر ایک نے شاید درج بالا جملہ اپنی زندگی میں ضرور سنا ہے۔ یہ جملہ اس تناظر میں کہا جاتا ہے کہ تعلیمی ادارے کے معیاری یا استاذ کے قابل ہونے سے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ طالب←  مزید پڑھیے

شیخ مکتب کے نام۔۔ارویٰ سہیل

بھائی حفظ القرآن کا طالب علم ہے۔ کرونا لوک ڈاؤن کے باعث تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔ اب اسکے حفظ کی فکر کہ کیا کیا جائے۔ حفظ القرآن کے دوران وقفہ بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔←  مزید پڑھیے

بلی، عشق اور شادی۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

عورت ہو یا مرد بہت سے لوگ پالتو پرندوں ، جانوروں کا شوق رکھتے ہیں۔ اپنے پالتو پرندوں ، جانوروں سے محبت بھی کرتے ہیں اور ان کا خیال بھی رکھتے ہیں۔ برسبیل تذکرہ میرا بیٹا بچپن میں  سکول سے←  مزید پڑھیے

حبیب اکرم کے نام۔۔میاں حبیب اللہ خان

جناب حبیب اکرم صاحب جب بھی آپکو دنیا نیوز  پر دیکھتا ہوں تو بہت خوشی ہوتی ہے کہ سرگودھا سے آکر آپ نے صحافی کے طور پر عزت حاصل کی ہے اسکی وجہ ایک تو راقم بھی سرگودھا کے Demontmorencyکالج←  مزید پڑھیے