آج سے چند سال پہلے تک جب اخبارات میں خبریں پڑھی جاتی تھیں تو دل مطمئن ہوتا تھا کیونکہ ہمارا مسلم معاشرہ تمام برائیوں سے پاک تھا۔لیکن آج کل اس ماڈرن دور میں اخبارات یا ٹی وی پر جب نظر← مزید پڑھیے
ہمارے ہاں مختلف قسم کے میلے لگائے جاتے ہیں جن میں مذہبی میلے یعنی عرس (جس میں عقیدت مند لوگ شرکت کرتے ہیں ) سماجی میلے ,جیسے بیساکھی کا تہوار جس میں اس ثقافت سے جڑے لوگوں کا ایک بڑاحصہ← مزید پڑھیے
ویسے تو جب تک دنیا قائم ہے ، انسان کا تجسس اسے دنیا کھوجنے پر مجبور رکھتا ہے، دنیا کی کھوج اور دنیا کے رنگ دیکھنے کی فطرت رکھنے والے لوگوں کو عموماً سیاح کہتے ہیں، یہی تجسس بھری فطرت← مزید پڑھیے
میں نے سب سے زیادہ محسن داوڑ کے خلاف لکھا، کرک میں تحریک انصاف کی مقامی قیادت کیخلاف لکھا، ایسے ایسے مسائل میں ذاتی طور پر الجھ بیٹھا جہاں جان بھی جاسکتی تھی۔ آپریشین ضرب عضب میں فوج کے خلاف← مزید پڑھیے
کرونا کے بارے میں تو ہم سب جان چکے ہیں کہ یہ خطرناک ہے اور اس سے بچنے کے لئے ہمیں آئسولیٹ ہونا ہے ۔ لیکن یہ آئسولیشن ہماری شخصیت پر کتنی اثر انداز ہو سکتی ہے اس کے لئے← مزید پڑھیے
آج اتوار کا دن ہے اور ماہِ جون کی چودہ تاریخ ہے۔ حسبِ معمول ہر اتوار کی طرح اس اتورا کو بھی صبح اٹھ کر میں نے ایکسپریس اخبار کی ویب سائٹ پر میڈم زاہدہ حنا کا کالم تلاش کیا،← مزید پڑھیے
وسعت اللہ خاں و مبشر علی زیدی اور بعض دیگر دوست آج کل تواتر سے بعض ممالک میں لگے ہیروؤوں کے مجسموں کے توڑے جانے اور ان کی بے حرمتی کے بڑھتے واقعات کی سماجی اور نفسیاتی وجوہات کو ذکر← مزید پڑھیے
اس عالمی وباء کے آنے سے پہلے بھی عالمگیریت (globalization) کو خطرات لاحق تھے۔ آزادانہ تجارت کا نظام، جس نے ساری دنیا کی معیشت پرکئی عشروں سے مکمل غلبہ حاصل کر رکھا تھا، مالیاتی خسارے اور امریکہ اور چین کے← مزید پڑھیے
اگر آپ لوگوں سے بات چیت کرتے ہیں تو آپ کا وقت بحث میں گزرا ہو گا۔ شاید روزانہ ہی۔ بحث وہ چیز ہے جو ہر کوئی کرتا ہے لیکن کم لوگ اس کو سمجھتے ہیں۔ یہ کریٹیکل سوچ کے← مزید پڑھیے
کتاب تاریخ اور سیاست ڈاکٹر مبارک علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 2016 میں تاریخ پبلیکشنز لاہور نے شائع کی۔ اس کتاب میں کل تین باب ہیں۔ پہلا باب تاریخ کے متعلق مضامین پہ مشتمل ہے۔ دوسرا باب امپیریل ازم← مزید پڑھیے
ہم انسان زندگی کے مختلف شعبہ جات سے منسلک ہوتے ہیں۔ ہمارے سامنے ان شعبہ جات کے مقاصد و ترجیحات ہوتی ہیں۔ ہم ان ترجیحات کو روزمرہ کی ترجیحات، درمیانے عرصہ کی ترجیحات اور لمبے عرصے کی ترجیحات و مقاصد← مزید پڑھیے
یہ جملہ ہر زبان زدِ عام ہے ایک مشہور شخصیت نے جو کہا ہے۔ اس پر مجھے ایک کہانی یاد آرہی ہے جو میں نے پڑھی اور رہا نہ گیا کہ آج کچھ لکھ ڈالوں۔ تو بات کچھ یوں ہے← مزید پڑھیے
باہر سے پرسکون نظر آنے والے وجود کے اندر کتنی جنگیں چل رہی ہوتی ہیں یہ کوئی نہیں جانتا۔ یہ جنگ چھوٹی سی بات پہ بھی شروع ہو سکتی ہے۔ جیسے کوئی کہے تمہارے منہ پہ کتنا برا دانہ نکل← مزید پڑھیے
بُرے کام کا بُرا نتیجہ ایس ایس پی اعظم جوئیہ کا فون سُنتے ہی ایک دفعہ تو میں پریشان ہو گیا مگر میں اپنی پریشانی اپنے ماتحتوں کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اب تک جتنے بھی دہشت گردی← مزید پڑھیے
پچھلے جمعے کی بات ہے، خواجہ عبداللہ نے چکوال کی ایک نواحی بستی بن امیر خاتون کے ایک قبرستان کی تصویر بھیجی کہ جس میں وہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق پرانے وقتوں میں شادی کے لیے آنے والی ایک← مزید پڑھیے
ہم نے بائیک رکتے ہی ایک زوردارچیخ مار کراپنی دانست میں شہادت سے پہلے آخری احتجاج ڈائیور صاحب اور کتے سے بالترتیب کرلیااور آنکھیں موند کرزیرلب کلمہ پڑھنے لگےکیونکہ یہ دیکھناہی بے کار تھاکہ کتاپہلے کس پہ حملہ کرتاہے یاکس← مزید پڑھیے
کرونا وائرس کی وبا نے جب دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دُنیا کا نظام اور اس کی رفتار یک دم رُک سی گئی۔ کوئی بھی شعبہ ہائے زندگی اس وبا سے شدید متاثر ہوئے← مزید پڑھیے
دوہزار بیس سے دوہزار اکیس تک کا بجٹ پیش کیا جا چکا ہے، کچھ لوگوں کو ابھی بھی امید تھی کہ وبا کی وجہ سے عوام کا جو معاشی نقصان ہوا ہے اس کے ازالے کے لیے بجٹ کو ہر← مزید پڑھیے
ہم انسان کسی مینا بازار میں سجے مٹی کے بے جان رنگین کھلونے نہیں، نہ ہی بازیچوں اور میلوں میں چند ٹکوں کے عوض رنگ برنگی تصاویر دکھانے والا ٹیلی سکوپ، نہ ہی کٹھ پتلی کا تماشہ جو پس پردہ← مزید پڑھیے
ہم میں سے ہر ایک نے شاید درج بالا جملہ اپنی زندگی میں ضرور سنا ہے۔ یہ جملہ اس تناظر میں کہا جاتا ہے کہ تعلیمی ادارے کے معیاری یا استاذ کے قابل ہونے سے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ طالب← مزید پڑھیے