کیا آپ نے سیاست پر کبھی گرما گرم بحث کی ہے؟ یا چلیں، کسی بھی موضوع پر کسی اور سے بات کرنے کا تجربہ تو ہوا ہی ہو گا۔ یقیناً، آپ اس بات سے واقف ہوں گے کہ دوسرا کس← مزید پڑھیے
شاعرانہ آواز، فلسفانہ اندازِ گفتگو، گول اُبھری آنکھیں، خاموش، ادب کی عکاسی کرتا چہرہ، کہانیوں کا شوقین، تخفیف، باڈی لینگویج اور فن کا بادشاہ عرفان، آج کل روز میری ٹی وی کی اسکرین پہ دکھائی دیتا ہے۔ کبھی کوئی انٹرویو،← مزید پڑھیے
پاکستان کاایک ناول اور افسانہ لکھنے والا جسےپاکستان سمیت دنیا بھر میں پذیرائی ملی۔وہ شخص جس نے اردو ادب کے لامحدود سمندر میں اداس نسلیں،باگھ،نادار لوگ، قید،رات،سات، رنگ، واپسی کا سفر،نشیب اور فریب جیسے بہترین ناولوں کو موتیوں کے مثل← مزید پڑھیے
میرے پاس لفاظی کا مسحور کن طلسم کدہ نہیں کہ پڑھنے والوں کو موضوع کے بالعموم بامقصد سحرانگیزی میں جکڑ کر رکھ سکوں، میں سادہ اور آسان فہم الفاظ میں اپنے مافی الضمیر کو ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔← مزید پڑھیے
بارہ جون دوہزار بیس کے دن سوات کے ہسپتال میں آکسیجن سیلنڈر نہ ہونے کی وجہ سے کرونا کے تین مریض جاں بحق ہو گئے، فیصل آباد کے ہسپتالوں میں حفاظتی ماسک اور کِٹس نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز← مزید پڑھیے
میں نے دروش (چترال) میں افغانی مہاجر کیمپ کلکٹک پر بمباری کے واقعے پر لکھا تو مجھے بہت سے فوجی افسروں کے فون آئے، جو اس زمانے میں چترال سکاوٹس یا آرمی انجنیئرز میں خدمات انجام دے رہے تھے ۔← مزید پڑھیے
پاکستان فلم انڈسٹری یقیناً اپنے اس دور سے نکل آئی ہے جب ایک مخصوص قسم کی فلموں کی بھرمار تھی غیر معیاری اداکاری، بے ربط ایڈیٹنگ، شہوت زدہ موسیقی، بے رنگ پرنٹ اور غیر حقیقی ڈبنگ۔ جس کی وجہ سے← مزید پڑھیے
اپنے بچپن کے دنوں میں فراغت کے وقت میں کبھی گھاس پر لیٹ کر آسمان کی طرف دیکھا ہو گا۔ بادل خوبصورت ہوتے ہیں اور ان کا سٹرکچر مسحورکن۔ یہ ہمیں اپنی دنیا کی وسعت کو سمجھنے کے لئے ایک← مزید پڑھیے
بدقسمتی سے ہم کرونا پھیلاؤ کے اس فیز میں داخل ہو چکے ہیں جہاں نہ جانے کتنے پیاروں کی قربانی دنیا پڑے گی۔ ہم بچ سکتے تھے۔۔دنیا کے ان 180 ممالک کی طرح بچ سکتے تھے جو ہم سے پہلے← مزید پڑھیے
استحصال کا خاتمہ کرنے کے لئے شعوری طور پر ہر انسان / انسانی آبادی کو بنیادی انسانی ضروریات فراہم کئے بنا سرکاری اور انفرادی سطح پر آسائشوں پر خرچ کرنے کی بجائے ملک کے پس ماندہ عوام / علاقوں کی← مزید پڑھیے
کسی بھی عہد یا سلطنت کا خاتمہ اچانک نہیں ہوتا، اس زوال کے پیچھے ہمیشہ سیاسی معاشی اور معاشرتی وجوہات ہوتی ہیں جنہیں بروقت پہچان کر انکا حل نہیں نکالا جاتا تو یہ مسائل دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا← مزید پڑھیے
وزیر اعظم جاپان محترم شِن زو آبے کے اعلان کے بعد 27مئی2020ء سے جاپان بھر میں کورونا وائرس سے نپٹنے کے لئے نافذ کی گئی ہنگامی حالت ختم کردی گئی ہے۔یاد رہے کہ وباء پر قابو پانے کے لئے جاپان← مزید پڑھیے
20 جنوری کی رات چین میں ہم نے پہلی بار کورونا وائرس کے بارے میں سنا۔ 23 جنوری کو چین نے ووہان اور پھر پورے چین کا لاک ڈاؤن کردیا۔ ہر گھر سے ایک فرد کو کھانا خریدنے کے لئے← مزید پڑھیے
یاسر پیرزادہ کا مضمون پڑھ کر اندازہ ہوا کہ پاکستان میں کرونا کے لئے کیا کیا ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے پاکستانی عوام کی رائے لینے کی ضرورت ہے پاکستان کے عوام کی اکثریت کا خیال← مزید پڑھیے
غور کیجیے مندرجہ ذیل بیان پر۔۔ “ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ کورونا سے اموات اتنا اوپر جائیں گی” یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کن صاحب نے یہ بیان جاری کیا ہے۔۔۔ فروری، مارچ، اپریل اور مئی کا مہینہ← مزید پڑھیے
عالمی وباء کورونا وائرس نے پوری دنیا اور ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ بلوچستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اب یہ وائرس شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور روزانہ بڑی تعداد میں کیسز رپورٹ← مزید پڑھیے
تشکیک کسی بھی مرید کی بے راہ و روی کے لیے زہر قاتل ہے۔ پس اے مریدین، آپ پیرِ کامل کے فرامین کی روح تک پہنچیں کہ اس کے بغیر ولی اللہ وقت کی معرفت کا اعتراف و ادراک ناممکن ہے۔ یہ دنیا ایک گولا ہے جو پیرِ کامل کی ہتھیلی پر گھوم رہا ہے۔ وہ جس نگاہ سے اسے دیکھ رہا ہے، مریدین کے زیر مشاہدہ زمان و مکان اس پر حجت نہیں رہتے۔ “جرمنی اور جاپان پڑوسی ہیں”۔ ← مزید پڑھیے
یہ آگاہی پوسٹ وائی ڈی اے لاہور جنرل ہسپتال/پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز لاہور کے فورم سے ڈاکٹر احمد فراز تارڑ نے تیار کی ہے جو “کوویڈ۔ 19 کونولیسنٹ پلازما پروجیکٹ پاکستان” سے منسلک ہیں۔ سوال ۱: کون پلاذما عطیہ← مزید پڑھیے
جدہ شہر , اور میں تھا۔۔ سائن بورڈ کا کام کرنے کیلئے ایک دکان کرایہ پر لے لی۔ایگریمنٹ کے حساب سے دکان میں ٹیلی فون تھا ۔قبضہ لیا تو ٹیلی فون غائب ۔ مالک دکان دو بہنیں ،ایک بھائی ،بندر← مزید پڑھیے
ہم نے مشرف کے آخری دور سے لے کر ن لیگ کے گزشتہ دور تک دیکھا ہے کہ جب اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور ٹی وی چینلز کسی حکومت کے خلاف اکٹھے ہو جاتے تھے تو وہ مفلوج ہو کر رہ جاتی← مزید پڑھیے