نگارشات    ( صفحہ نمبر 554 )

یورپین سرمایہ دارانہ جمہوریت پاکستان میں پنپ سکتی ہے؟۔۔یاسر ارشاد

کیا  یورپ کی طرز کی سرمایہ دارانہ جمہوریت پاکستان میں پنپ سکتی ہے ؟ ٹھوس سائنسی بنیاد پر اس سوال کا جواب تلاش کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج جمہوریت ، سول سپرمیسی اور آئین و قانون کی←  مزید پڑھیے

عوامی راج سویلین سپریمیسی۔۔مہر ساجد شاد

جمہوریت کی تاریخ بڑی تلخ ہے۔ اس وقت دنیا میں دو بڑی جمہوری مثالیں موجود ہیں، ایک برطانوی پارلیمانی جمہوریت اور دوسری امریکی صدارتی  نظامِ  جمہوریت ۔ دونوں طرز جمہوریت کی تعریف یکساں ہے یعنی عوام کی حکومت، عوام کے ←  مزید پڑھیے

کیا بڑوں کا کہا حرفِ آخر ہوتا ہے؟۔۔عبدالستار

ہمارے مشرقی معاشرے میں باپ کو جنت کا دروازہ کہا جاتا ہے اور ماں کے پاؤں تلے جنت ہوتی ہے۔اسی بنیادی مقدس اصول کے  تحت ہماری مشرقی نسل پروان چڑھتی ہے۔اس مقدس اصول کی پاسداری کرتے ہوئے ایک مشرقی باپ←  مزید پڑھیے

بہتر تعلیم یا محض گدھے پر کتابیں لادنا؟۔۔نازیہ علی

رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا “ترجمہ” اے رب ! میرے علم میں اضافہ فرما۔ یہ وہ الفاظ ہیں جن کا آغاز میری زندگی میں میرے بچپن سے ہوا ،اور میں نے یہ ہمیشہ اپنے ہر امتحانی بورڈ پر لکھا بھی اور پڑھا←  مزید پڑھیے

امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں مارشل لاء متوقع ہے؟۔۔شجاعت بشیر عباسی

امریکہ اسرائیل مفادات جو جنگوں کی صورت ڈھلتے رہے اگر ہم ان پہ ایک  نظر ڈالیں  تو تقریباً ہر جنگ جو مڈل ایسٹ یا ایشیاء  میں لڑی گئی، اس سے پہلے پاکستان میں مارشل لاء لگتا رہا ،چاہے وہ عرب←  مزید پڑھیے

اچھوت مسلمان۔۔حبیب شیخ

ارے بھئی تم اُدھر بیٹھ کر کھانا کھاؤ۔نوجوان کارندے نے سختی سے کہا۔ اِدھر بھی تو لوگ بیٹھے ہیں میرے اِدھر بیٹھنے ميں کیاحرج ہے۔ بھئی اب تو ميں مسلمان ہوں۔ میں اور میرا بھائی ہندو دھرم چھوڑ کر مسلمان←  مزید پڑھیے

جب رقہ فتح ہوا۔۔ (قسط10)وہارا امباکر

شام کے مشرقی صوبائی دارالحکومت رقہ دریا کنارے آباد ایک تاریخی شہر ہے جہاں بیرونی حملہ آور آ کر قبضہ کرتے رہے ہیں، یونانی، رومی، فارسی، منگول، عثمانی اور دوسرے۔ اب جہادیوں کی باری تھی۔ 2013 کے موسمِ گرما میں←  مزید پڑھیے

ماسکو کی ایک رات۔۔انور عظیم

برف گر رہی تھی اور ماسکو کی رات کو پراسرار بنا رہی تھی، ہماری کار یوکرائنا ہوٹل سے نتاشہ کے گھر کی طرف بھاگ رہی تھی۔ سڑک پر تازہ تازہ سفید برف بچھی ہوئی تھی۔ نتاشہ اور فیض پچھلی سیٹ←  مزید پڑھیے

نقوش۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

توہمات اور ایمان بظاہر ایک دوسرے کا متضاد ہیں، جہاں ایمان کا بسیرا ہو وہاں توہمات کیلئے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔ اگر اس سادہ سے جملے پر یقین کر لیا جائے تو نتیجتاً ایمان کے دعویدار  کسی بھی قسم←  مزید پڑھیے

اضطراب کے عالم سے احساس کے عالم تک۔۔اشفاق احمد

ہمیں محدود سا توشہ دے کر لامحدود امکانات سے آشنا کر دیا گیا ہے۔ یہ محدود سا توشہ ہماری عمر اور ہمارا طبعی جسم ہے جس میں زندگی کے مختلف مدارج کی محض ایک جھلک ہی دکھائی  جاتی ہے۔ مختصر←  مزید پڑھیے

دین،سیاست اور ملائیت (قسط2)۔۔۔عنایت اللہ کامران

پاپائیت اور ملائیت(مولائیت): جب بھی پاکستان میں نظام مصطفیﷺ،اسلامی نظام یا حکومت الٰہیہ کے قیام کا ذکر کیا جاتا ہے سیکولرو لبرل طبقے  کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگتا   ہے اور وہ لٹھ لیکر میدان میں کود پڑتا ہے،گلے پھاڑ←  مزید پڑھیے

اپنے پاؤں پر کلہاڑی مت ماریئے۔۔سائرہ نعیم

ہمارے پاس موجود دو عدد پاؤں اللہ سبحان تعالی’ کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ یہ ہمارے پیروں کا ہم پر احسان ہے کہ وہ پورے جسم کا بوجھ اٹھاتے ہیں اس لئے ان کی حفاظت کرنا نا صرف ہمارا←  مزید پڑھیے

میڈن ٹاور اور زندگی۔۔مہرساجدشاد

ترکی کے  شہر استنبول کے ایشین حصے  میں باسفورس کے ایک چھوٹے جزیرے پر واقع میڈن ٹاور ایک رومانوی مقام ہے۔ آج کل یہ سیاحتی مقام ایک شاندار ریسٹورنٹ میں بدل دیا گیا ہے جو اپنے آنے والوں کی خوبصورت←  مزید پڑھیے

داعش ۔ سیاہ جھنڈوں کی آمد ۔۔ (قسط9)وہارا امباکر

 ابراہیم البدری کی سپیشلائزیشن فقہ میں تھی۔ 2003 تک انکا کیرئیر خاموشی سے چل رہا تھا۔ اگر امریکہ عراق میں نہ آیا ہوتا تو ایک ناقابلِ ذکر زندگی ہوتی۔ نہ وہ افغانستان گئے۔ نہ زرقاوی کی طرح زندگی تشدد کے←  مزید پڑھیے

کیا آپ خوش ہیں ؟۔۔ذیشان چانڈیہ

عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ خوشیاں اپنا اثر کھوتی رہتی ہیں  ،  کبھی سوچا ایسا کیوں ہوتا ہے ؟۔۔ بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا سب ایک دوسرے سے ایسے مختلف ہے، جیسے زمین اور آسمان۔ بچپن میں عید کے آنے←  مزید پڑھیے

چوہدری اور یوگا۔۔سید شازل شاہ گیلانی

شیقے ۔۔وے شیقے ،وے جلدی آ ۔۔۔۔ بڑی چوہدرانی بھاگتی ہوئی  باغیچے  میں آئیں ۔ وے شیقیا چوہدری صاحب کو کچھ ہو گیا ہے ، کونوں بولنوں (بات چیت کرنے سے )  ہٹ گئے ہیں۔ شیقا اندھا دُھند چوہدرانی کے←  مزید پڑھیے

پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگ۔۔مائرہ علی

عیسوی تقویم کی اکیسویں صدی کا انیسواں سال اختتام کو پہنچا، اکیسویں صدی نے ٹین ایجز سے نکل کر بلوغت میں قدم رکھ دیا اور بیس سال کی ہوگئی۔ ہر طرف چراغاں کیا گیا، نئے سال کو خوش آمدید کہا←  مزید پڑھیے

مدرسے کی کہانی۔۔ادریس آزاد

دنیا میں پہلے تعلیم وتدریس آزاد ہوا کرتی تھی، یعنی حکومتیں اپنے تعلیمی اداروں کو اپنے قابُو میں نہیں رکھتی تھیں بلکہ اُنہیں آزادانہ علمی سرگرمیوں کا موقع دیتی تھیں۔ لیکن نوآبادیاتی عہد میں استعمار نے اپنی ضرورتوں کے تحت←  مزید پڑھیے

نابینا و دیگر معذور افراد اور ہمارا معاشرہ۔۔مہرساجدشاد

ہمارے والد محترم کے استاد حافظ قاری شوکت علی نابینا تھے۔ میں بہت چھوٹا تھا، جب ان کا انتقال ہو گیا لیکن وہ بہرحال میری یاد داشتوں میں موجود ہیں۔ ابا جی مرحوم بتایا کرتے تھے کہ قاری صاحب کو←  مزید پڑھیے

شناخت کا مسئلہ۔۔کاشف حسین سندھو

دنیا بھر میں شناختیں عموماً ثقافتی منطقوں پہ پرکھی جاتی ہیں، مثلاً آپ بیرون ملک جائیں تو لوگوں کو اگر یہ کہیں کہ میں اردن سے ہوں تو شاید لوگ نہ پہچانیں، لیکن اگر آپ مزید وضاحت کرتے ہوئے بتائیں←  مزید پڑھیے