یہ انڈونیشیاء کے جزائر جاوا, بالی اور باوین میں ندی نالوں کے اردگرد اور زیرکاشت علاقوں میں پاۓ جانے والی خوبصورت فنچ ھے جسکی لمبائی 5.5 انچ اور وزن 25 گرام ھوتا ھے,اسکی کمر,ونگز اور سینے کا رنگ پرل گرے← مزید پڑھیے
ساتھ والی تصویر ایک سیڑھی کی ہے۔ لکڑی سے بنی سیڑھی تین سو سال سے کیسةُ القیامة نامی چرچ پر اسی جگہ ہے۔ اس کو یہاں سے نہیں ہٹایا جا سکتا اور اس کی وجہ فزکس نہیں۔ تاریخ اور انسانی← مزید پڑھیے
جب اس کے والد اس سے کیاگیا وعدہ پورانہ کرسکے تو اس نے ٹائم کلر بن کرخودکوبربادکرنے کافیصلہ کرلیا۔وہ اپنے والدین کے لئے سخت آزمائش بن گیا لیکن پھر اللہ رب العزت کی رحمت ہوئی ۔۔۔ فرخ اپنے والدین کا← مزید پڑھیے
اللہ رب العزت اپنے بندے سے اس کی شہ رگ سے قریب ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ مومن کا دل اللہ تعالیٰ کا مسکن ہوتا ہے۔میاں محمد بخش فرماتے ہیں: ؎ مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے ڈھا دے← مزید پڑھیے
صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سمّی رشید پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والی پہلی نوجوان خاتون ہیں۔ مکران کی بیٹی سمّی رشید کا تعلق تربت ڈسٹرکٹ، کیچ سے ہے۔ وہ اس وقت بلوچ کاؤنسل← مزید پڑھیے
عرصہ دراز سے یہ مکالمہ بھانت بھانت کے ہر پلیٹ فارم پہ تقریباً نہایت فصیح و بلیغ انداز میں ہو چکا ہے اور آج بھی جاری و ساری ہے۔ بس فرق اتنا پڑا کہ کہنے والے کہتے کہتے تھک گئے← مزید پڑھیے
افغان امن مذاکرات میں اتار چڑھاؤ ، اُمید اور نا اُمیدی ، توقعات اور خدشات ، مشکلات اور چیلنجز اپنی جگہ مگر امن پراسس کے جلد یا بدیر اپنے منطقی انجام کو پہنچنے کا امکان ہے ۔ نیا بدلتا ھوا← مزید پڑھیے
انگریزی کے زبان زد عام م محاورے کاترجمہ ہے کہ ’’کہ آج کا کام کل پر مت چھوڑو اور جو آج کر سکتے ہوکر گزرو‘‘ جبکہ عربی کے مشہور محاورے ’’اگر کچھ بننا چاہتے ہو تو وقت کو کاٹو ،وگرنہ← مزید پڑھیے
پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی بات ہر کچھ عرصہ بعد ایک نعرے کی صورت میں سامنے آتی ہےاور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر دفعہ یہ بعد مختلف پارٹی یا گروہ کی طرف سے کی جاتی ہے، مسائل سے نبرد آزما حکومت پر یہ سیاسی دباو کا ایک مروجہ طریقہ ہے۔ یہ وہی ملک ہے جہاں صوبوں کو یکجا کر کے ون یونٹ بنانے کا بالکل برعکس تجربہ بھی کیا چکا ہے جو یقینا غلط تجربہ تھا۔ ← مزید پڑھیے
یہ ایک ایسا موضوع تھا جس پر بہت دنوں سے لکھنے کی خواہش تھی ، لیکن کل ایک ناروے سے محب وطن پاکستانی دوست نے ایک غزل بھیج کر پوری کر دی ۔ ایک مشہور امریکی نفسیاتی ماہر نے کہا← مزید پڑھیے
عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا۔ ایک سفر درپیش تھا لیکن ہیبت اس قدر تھی کہ قدم باہر رکھنے سے ہچکچا رہا تھا۔ دماغ میں پولیس موبائل اور ایمبولینس کے سائرن کی ملی جلی آوازوں کی بھنبھناہٹ تھی۔ ہچکچاہٹ بھی← مزید پڑھیے
آج سے 93 سال قبل 29 جنوری کو پاکستان (اس وقت کا متحدہ ہندوستان) کے ضلع جھنگ میں سائنس کی دنیا کے شاہ سوار ڈاکٹر عبد السلام پیدا ہوئے۔ 1979 میں فزکس کے شعبہ میں ان کو نوبل انعام سے← مزید پڑھیے
یہ ایک وسیع ہال تھا جسے انگریز کے زمانے میں کوئلہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہاں دیواروں پر رنگ کی تہہ در تہہ جمی پڑی تھی جسے ذرا سا کھرچنے پر کوئلے کی کالک حال کو← مزید پڑھیے
پھر اس کے بعد صبح ہے اور صبحِ نو مجازؔ سترہ جنوری ۲۰۱۹ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن تصور کیا جائیگا ۔ اس دن پاکستان کے پچیسویں چیف جسٹس جناب میاں ثاقب نثار اپنی مدّتِ ملازمت مکمل کرکے← مزید پڑھیے
محترم عمران خان کی حکومت کی چھ ماہ کی کارکردگی یقیناً مختلف حکومتوں کی پچھلے 70 برس کی کارکردگی سے جدا ہے اور پاکستان کے عوام کے علاوہ دنیا بھر میں اپنا لوہا منواتی جا رہی ہے۔ مختلف وزارتوں کی← مزید پڑھیے
میرے والد صاحب اپنے چند دوستوں کے ساتھ دھوپ میں کرسیاں ڈالے بیٹھے تھےان کے ایک دوست قادری صاحب جن کا تعلق انڈیاں سےتھا کہنے لگے آپ میں سے کسی نے دو مختلف دریاِؤں کو ایک دوسرے پر سے کراس← مزید پڑھیے
حافظ عاکف سعید کی تنظیمِ اسلامی اپنے اس مقالے کے پہلے حصے میں میں نے تین قسم کی تنظیموں کا موازنہ پیش کیا تھا۔ مفاداتی تنظیم (Utilitarian Organization)، جبری تنظیم (Coercive Organization) اور رضاکارانہ تنظیم (Voluntary Organization)۔ تنظیمِ اسلامی ایک← مزید پڑھیے
کل شام میں اور انیس الرحمٰن باغی جب “نیرنگ کیفے اینڈ آرٹس گیلری”, جیل روڈ متضاد “کے سی” سے انعام رانا صیب, عثمان شاہد صیب اور دیگر احباب کی معیت میں یادگار شام گزار کر واپسی کی خاطر نکلے تو← مزید پڑھیے
آپ نے یقیناًًً یہ بات تو ضرور سن رکھی ہو گی کہ “بادشاہوں کی بات باتوں کی بادشاہ ہوتی ہے” بالکل یہی صورت حال ہمارے نظام شمسی اور مشتری سیارہ کی ہے۔مُشتری سیارہ Jupiter planet نظامِ شمسی کے تمام سیاروں← مزید پڑھیے
میرے کل دو دوست جو میرے بلاگز کے شوقین بھی ہیں نے اپنی فیس بک پوسٹس پر لکھا ، کہ وہ اپنی زندگیوں سے بہت ناخوش ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ کسی طرح یہ دنیا کے دروازے اب ان← مزید پڑھیے