مسافر اجنبی کو لے کر ابوالحسن کے پاس آیا اور یوں گویا ہوا۔ابوالحسن! کچھ دن پہلے میں ایک شہر سے گزرا۔شہر میں ہوکا عالم تھا۔تمام دروازے بند تھے۔میں نے ہر دروازے پر دستک دی۔مگر کسی نے میری آواز نہیں سنی۔← مزید پڑھیے
کل روٹیاں لینے تندور پہ جانا ہوا کہ ہر شریف آدمی آج کل یہ فرض بخوشی ادا کرتا ہے۔ سب اپنی اپنی باری کے منتظر۔ کچھ افراد کھڑے ہیں جبکہ کچھ وہاں پڑے اکلوتے بینچ اور دو کرسیوں پہ براجمان← مزید پڑھیے
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں ادب اور فنونِ لطیفہ کا ایک عظیم ورثہ موجود ہے، فن مصوری ہو یا خطاطی، سنجیدہ نثر نگاری ہو یا مزاح نگاری، شاعری ہو یا فن موسیقی، سٹیج← مزید پڑھیے
مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر 25 جولائی کو ‘بلیک ڈے’ سے تعبیر کرتے ہوئے آج سے دو سال پہلے منعقد ہونے والے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھایا جارہا ہے اور باور کروایا جا رہا ہے کہ گزشتہ انتخابات میں← مزید پڑھیے
گاڑی درختوں کے درمیان سے چلتی ہوئی شہر میں داخل ہو رہی تھی ،مجھے کسی بھی شہر میں داخل ہونے کا اندازہ اُسی لمحے ہو جاتا جب میری آنکھیں گاڑی میں نصب شفاف شیشے سے جھونپڑی اور جھگیوں کی بستیوں← مزید پڑھیے
شام گہری ہونے لگی۔شفق پر تاریکی چھانے لگی۔ایسے میں ابوالحسن گویا ہوا۔ مسافر سن، آج کی تہذیب کا انسان اپنے آپ کو نہیں پہچان سکتا۔اسے دوسرا پہنچانتا ہے۔اور اس کی پہچان کی گواہی دیتا ہے۔جو اپنے آپ کو نہیں پہچانے← مزید پڑھیے
سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیے کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اپنا کاروبار شروع کریں تو اس کا مطلب نوکری کرنے کو معیوب سمجھنا یا اس کی افادیت کو کم کرنا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ نوکری← مزید پڑھیے
انقلاب کا مقابلہ کرنے سب سے موثر جواب لاہور اور پشاور سے آیا۔ لاہور میں جان لارنس ایک اچھے منتظم تھے اور پشاور کے جان نکلسن اور ہربرٹ ایڈورڈز سخت گیر فوجی۔ انہوں نے فوری جواب کا منصوبہ بنایا۔ “ہمیں← مزید پڑھیے
آج کل گوادر کا ایک حصہ چکاچوند روشنیوں کی وجہ سے دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں سورج غروب ہوتے ہی روشنیوں کا سفر شروع ہوتا ہے۔ یہ منظر دلفریب نظارے بھی ساتھ لے کر آتا ہے۔ جب آپ← مزید پڑھیے
عظیم ہمالیہ کے حضور! جاویدخان کی اولین تصنیف ہے۔جاویدپیشہ کے لحاظ سے استاد ہیں۔ زمانہ طالب علمی سے ہی فعال نظریاتی کارکن رہے ہیں۔ ہمارے اُن چنیدہ شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔جنھیں قدرت نے پڑھنے لکھنے کاذوق اور ابلاغ کافن← مزید پڑھیے
۱۸/جولائی کی واردات ہے- ہمارے ایک جونئیر دوست محمد رضوان جو شعبہ تاریخ کے طالب علم ہیں اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پڑھتے ہیں- چکوال کے ایک بڑے مشہور قصبے ملہال مغلاں کے باسی ہیں- عرصہ دراز سے بضد← مزید پڑھیے
گزشتہ کالموں میں بات بیٹنگ کی بابت جاری رہی، آج ذکر ہو جائے ہماری بالنگ کا۔ بچپن سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ پاکستان میں بالنگ ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اس ملک نے ہمیشہ ہی عظیم بالرز پیدا← مزید پڑھیے
گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے اداروں سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے دیکھا کہ یو ٹیوب پر کیا ہو رہا ہے؟ سوشل میڈیا پر کسی کو بخشا نہیں جا رہا۔ انکی ذاتی زندگیوں← مزید پڑھیے
تصوف، صوفی ، اہل صوف یا انگریزی میں صوفی ازم کی اصطلاح اسلامی سلسلہ روحانیت کے لئے مستعمل ہے لیکن اس بات کا ادراک ضروری ہے کہ اس کے پیچھے روحانیت کا جو عظیم تجربہ ہے اس کا تعلق صرف← مزید پڑھیے
دہلی سے شمال میں کیپٹن رابرٹ ٹٹلر اس سے بے خبر اپنے 200 سپاہیوں کو کمانڈ کر رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ فوج میں کچھ گڑبڑ تو چل رہی ہے لیکن کس حد تک؟ اس کا علم نہیں تھا۔← مزید پڑھیے
ابن الحکم نے کہا،مسافر سن، میں نے شہر میں دیکھا ہر شخص نے نقاب پہنا ہوا ہے۔ اور وہ دن میں کئی بار یہ نقاب بدلتا ہے۔میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ بھائی تم نے یہ نقاب کیوں پہنا← مزید پڑھیے
خدا کے نام پہ سجدے میں سر جھکنا عبادت ہے۔ وہ دل اللہ کا گھر ہے کہ جس دل میں محبت ہے۔ میرا جینا عبادت ہے، میرا مرنا محبت ہے۔ محبت ہے خدا جیسی، خدا ہی تو محبت ہے۔ اللہ← مزید پڑھیے
میں نے یہ سوال کئی لوگوں سے کیا ہے جن میں کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبہ، اعلیٰ تعلیم کے ڈگری ہولڈرز، گھریلو اور پروفیشنل خواتین،عام مزدور وغیرہ ہر قسم کے لوگ شامل تھے۔کسی نے بھی ان سوالات کو← مزید پڑھیے
آپ کا اصل نام سید محمّد عثمان مروندی ، لقب لعل شہباز قلندر اور عرف جھولے لال ہے۔ آپ 1177ء بمطابق 538ھ کو موجودہ افغانستان کے شہر کندھار کے جنوب میں واقع ضلع مروند جسے میوند بھی کہتے ہیں( یہ← مزید پڑھیے