یہ کہانی ہے ایک اس ماں کی جس نے ایک ایسی بیٹی کو جنم دیا جس نے ایک عام ماں کو ام مومنہ، بنا دیا۔ 1985ء لاہورسی ایم ایچ ہسپتال میں ایک لڑکی پیدا ہوتی ہے۔ والد کیپٹن ڈاکٹر تھا۔← مزید پڑھیے
رواں سال کے آغاز میں پرانی کتابیں خریدتے وقت ایک کتاب پر نظر پڑی جس کا نام تھا “محبت(لیکچرز)”۔ اوشو کے اقتباسات فیسبک پر پہلے بھی پڑھ رکھے تھے اور کتاب کی قیمت فقط دو سو روپے تھی اس لیے← مزید پڑھیے
دیکھیں بات یہ ہے کہ تاریخ ایک چٹیل میدان ہے جس کی مٹی کو ہمیشہ خون سے ہی نرم کیا گیا ، کبھی وہ خون اپنوں کا ہوتا تو کبھی بے گانوں کا ۔ الغرض تاریخ ہمیشہ ہی لہو کے← مزید پڑھیے
شہر عجب میں معاملات ازل سے ڈگڈگی کی تال پر ہی رواں دواں تھے۔بندر تو بندر، ریچھ، اونٹ اور ہاتھی تک کا کام صرف اپنی اپنی تال پر جھومنے کا ہی تھا اور وہ اسی میں مگن تھے۔بیل کی آنکھوں← مزید پڑھیے
جیسے ہی بم دھماکے کی آواز میرے کانوں تک آئی میں مستعد ہوگیا کہ اپنا بچاؤ کیسے کرنا ہے۔ میرے پاس دس سیکنڈ تھے۔ جب تک سامنے امریکن کانوائے کے حواس بحال ہوتے اور اس کے بعد انھوں نے اندھا← مزید پڑھیے
جن کو نہیں معلوم، اور جن کو شوق ہے کہلوانے کا، وہ دیکھ لیں اور سمجھ لیں کہ کیسا ہوتا ہے “امت مسلمہ کا لیڈر”۔ اسماعیل ہانیہ جب شہید ہوئے تب جا کے دنیا کو معلوم ہوا کہ یہاں کوئی← مزید پڑھیے
عزیزی قمر رحیم ہمارے اعزّہ میں دوسرے عزیز ہیں جو ہم سے بڑھ کر ہمیں عزیز رکھتے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اُنہیں ہم پر اعتبار ہے لیکن اعتماد نہیں ، یا پھراعتماد← مزید پڑھیے
علیجاہ میگنیر ایک صحافی ، جو پچھلے چالیس سال سے مشرق وسطی کے معاملات پر لکھ رہے ہیں۔یہ آج کل بلیجیم کے شہر برسلزمیں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک تحریر کے زریعے انکشاف کیا کہ فلسطینی لیڈر کو← مزید پڑھیے
اسلام آباد کو افسران کا شہر کہا جاتا ہے۔ایک روز ایک سینئر افسر شام تک فائلوں میں گھسے رہے، ذہنی پریشانی زیادہ بڑھی تو وہ ایک نجی مہمان خانے میں جا گھسے اور وہاں کتاب حسن کی ورق گردانی کے← مزید پڑھیے
کور پر لگی تصویر ایک بہت اہم بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ جس کی جانب شاید کسی کا اب دھیان بھی نہیں جاتا ۔پرچم کسی ملک اورقوم کی عظمت کا نشان ہو تا ہے۔ اپنے پرچم کو سربلند← مزید پڑھیے
طورخم بارڈر کراسنگ سے اوپر دس یا پندرہ کلومیٹر دور لنڈیکوتل بازار ہے۔ بازار سے ایک رستہ بائیں طرف پشتو کے مشہور شاعر امیر حمزہ بابا شنواری کے مزار کی طرف نکلتا ہے اور دائیں طرف مرکزی سڑک پشاور کی← مزید پڑھیے
افتخار جالب نے تحریر میں جس لسانی تشکیل کا ڈول ڈالا تھا احمد جاوید نے وہی کام تقریر میں جاری کیا۔ موسیقی روح کی غذا اور نصیبو لال کسی بدروح کی غذا ہے۔منٹو کا معاشرہ صرف اس کے افسانوں میں← مزید پڑھیے
شہر عجب میں معاملات ازل سے ڈگڈگی کی تال پر ہی رواں دواں تھے۔ بندر تو بندر، ریچھ، اونٹ اور ہاتھی تک کا کام صرف اپنی اپنی تال پر جھومنے کا ہی تھا اور وہ اسی میں مگن تھے۔ بیل← مزید پڑھیے
۱۲۔ مائکرو ارتقاء اور میکرو ارتقاء نظریہ ارتقاء کے رد میں ایک نکتہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ مائکرو ارتقاء (Microevolution) کے مشاہدات اور ثبوت موجود ہیں، لیکن میکرو ارتقاء (Macroevolution) کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یعنی میوٹیشن کی← مزید پڑھیے
23 جولائی کو ہمارے پیارے دوست ڈاکٹر افتخار نسیم صاحب عرف افتی کی برسی تھی ۔ انھوں نے جہاں نثر کی کتابیں نریمان، شبری، افتی نامہ، ادبی پھکڑ اور شاعری کی کتابیں غزال، آبدوز تحریر فرما کر زیور طبع سے← مزید پڑھیے
یہ اسی کی دھائی کا واقعہ ہے کہ جب مرحوم طارق عزیز کا شو نیلام گھر اپنے عروج پر ہوا کرتا تھا اور لوگ بڑی دلچسپی سے دیکھا اور سنا کرتے تھے ۔اسی پروگرام میں بیت بازی کا مقابلہ جاری← مزید پڑھیے
جرمنی میں نینڈر کی وادی دریائے ڈوسل کے ساتھ ہے۔ چونے کے پتھر کی پہاڑیوں کے غار سے 1856 میں ملنے والی ہڈیوں نے اسی شہرت دی اور دنیا کو ایک نئی نوع کا پتا دیا جو اس وادی کے← مزید پڑھیے
عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ڈپریشن کا شکار صرف بالغ افراد ہی ہوتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کم سن اور نوعمر بچے بھی ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ڈپریشن کا شکار بچوں کی ایک← مزید پڑھیے
کشتی رانی کے کھیل میں آٹھ افراد چپووں والی کشتی چلاتے ہیں اور پوری ٹیم کو اپنے اپنے چپوؤں کو بیک وقت چلانا ہوتا ہے یعنی ٹیم ممبرز کی حرکات میں مکمل ہم آہنگی (synchronization ) کی ضرورت ہوتی ہے۔← مزید پڑھیے
بڑے چبوترے پہ بیٹھے ہم دور شانزے لیزے کے کنارے موجود دمکتے آرک کو دیکھ رہے تھے۔میرے ایک میزبان “اگ لاری بمب ڈرائیور” جیسے تتے تھے۔انکا خیال تھا کہ یہ آرک نزدیک جا کے بھی ایسا ہی دِکھتا ہے اور← مزید پڑھیے